پی ایس ایل وی سی-62 کی لانچنگ ناکام، بھارت کے درجنوں سیٹلائٹ برباد ہو گئے

Mar 12, 2026 | 22:07:PM
 پی ایس ایل وی سی-62 کی لانچنگ ناکام، بھارت کے درجنوں سیٹلائٹ برباد ہو گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) نام نہاد ترقی کے زعم میں مبتلا بھارت کے نمائشی خلائی پروگرام کی کم علمی، مہارت سے محرومی اور بے چارگی ایک بار پھر دنیا کے سامنے آ گئی۔  پی ایس ایل وی سی-62 کی لانچنگ لانچ ناکام ہو گئی۔ بھارت کے مانگے تانگے کے خلائی پروگرام کی یہ  2021 کے بعد پانچویں بڑی ناکامی ہے۔ 

بھارت کے خلائی پروگرام کو  نیا دھچکا اس وقت لگا  جب  پی ایس ایل وی سی-62 کو لانچ کرنے کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی۔ اس ناکامی کو 2021 کے بعد بھارت کے نمائشی خلائی پروگرام کی پانچویں بڑی ناکامی شمار کیا جا رہا ہے۔ پی ایس ایل وی سی-62 کی لانچنگ ناکام ہو  جانے سے  اس کے ساتھ بھیجے جا رہے کئی بیش قیمت سیٹلائٹ بھی برباد ہو گئے۔ 

یہ بھی پڑھیں: 2029 میں پنجاب ساؤتھ ایشیا میں سب سے آگے آئی اے انیبلڈ صوبہ ہو گا، مریم نواز نے روڈ میپ منظور کر دیا 

حالیہ واقعہ نے بھارتی خلائی ادارے کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت کی نمائشی خلائی ادارہ کے بیشتر مشن  ناکام ہوئے ۔ کچھ ہی جزوی کامیابی حاصل کر سکے، جس کے باعث  بھاری اخراجات کرنے والے اس ادارے کے مالی اور تکنیکی چیلنجز پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

بھارت کے  خلائی ادارے انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے  اپنے بیان کے مطابق  11 اور  12 جنوری 2026 کی درمیانی شب پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی پرواز سری ہریکوٹا میں قائم ستیش دھون سپیس سینٹر سے روانہ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئی۔

بھارت  کے اس کثیر لاگت کے  مشن کے دوران راکٹ کی  تیسری سٹیج  میں خرابی پیدا ہونے کے باعث مرکزی ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ای او ایس این-1 اور اس کے ساتھ موجود دیگر سیٹلائٹس مدار تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو گئے تھے۔

یہ 8 ماہ کے اندر پی ایس ایل وی پروگرام کی دوسری ناکامی تھی جبکہ 2021 کے بعد سے بھارتی خلائی پروگرام کو متعدد تکنیکی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس عرصے میں چند دیگر مشنز بھی مشکلات کا شکار ہوئے جن میں سیٹلائٹس مطلوبہ مدار تک نہ پہنچ سکے یا جزوی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

 ISRO PSLV-C62/EOS-N1 مشن 12 جنوری 2026 کو شروع کیا گیا تھا، اور بدقسمتی سے مطلوبہ مدار کو حاصل کرنے میں ناکامی پر ختم ہوا۔ اس مشن سے متعلق اہم تفصیلات یہ ہیں:
لانچ

 پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C62) سری ہری کوٹا میں ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC) میں 12 جنوری 2026 کو صبح 10:17 IST پر پہلے لانچ پیڈ سے روانہ ہوئی۔
مشن کا مقصد

 بنیادی مقصد EOS-N1 ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ (جسے 'انویشا' بھی کہا جاتا ہے) 15 دیگر سیٹلائٹس کے ساتھ تعینات کرنا تھا۔ یہ  جاسوسی سیٹلائٹ بھارت کی  ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کے لیے بہت محنت سے  تیار کیا گیا تھا۔
بے ضابطگی

 اسرو کے مطابق  اس راکٹ کو پرواز کے تیسرے مرحلے (PS3) کے دوران تکنیکی مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے وہ اپنے طے شدہ راستے سے ہٹ گئی اور اس کے نتیجے میں تمام پے لوڈز ضائع ہو گئے۔

2026 کا ناکامی سے آغاز

 یہ 2026 میں ISRO کا پہلا مداری لانچ تھا اور اس کا مقصد سٹریٹجک لانچوں کی ایک سیریز کو شروع کرنا تھا۔ تاہم، اس نے PSLV کے لیے ایک غیر معمولی ناکامی کا نشان لگایا، جسے ہندوستان کے "ورک ہارس" راکٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
تحقیقات

 واقعے کے بعد، فلائٹ ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ شروع کیا گیا، اور حکومت نے بشمول قومی سلامتی کے مشیر نے پے لوڈ کی اسٹریٹجک نوعیت کی وجہ سے نوٹس لیا۔
 تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلسل تکنیکی رکاوٹیں نہ صرف بھارت کے  خلائی مشنز کے اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر کمرشل لانچ مارکیٹ میں اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔