لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے:اداکار ثانیہ سعید

Jun 12, 2026 | 19:35:PM
لاکھوں فالوورز اچھے اداکار کا متبادل نہیں ہو سکتے:اداکار ثانیہ سعید
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)تھیٹر، ٹیلی ویژن اور فلموں کی معروف اداکارہ ثانیہ سعید  نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت اور لاکھوں فالوورز کسی بھی صورت اچھی اداکاری کا متبادل نہیں ہو سکتے، کیونکہ کیمرہ ایک سچا اور بے لاگ ذریعہ ہے جو اصل صلاحیت کو نمایاں کر دیتا ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ثانیہ سعید نے انکشاف کیا کہ فلمی پروڈکشن کے شعبے میں کام کے باعث وہ قرض کی زد میں آ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب قرض ادا ہو جائے گا تو دوبارہ پروڈکشن کے میدان میں قدم رکھیں گی۔

اداکارہ نے بتایا کہ ان کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں خواتین نے ہمیشہ مشکلات کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطابق جب ان کے نانا جیل میں ہوتے تھے تو نانی گھر کا نظام سنبھالتی تھیں اور انہی کی کوششوں سے ان کی والدہ نے تعلیم حاصل کی۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ فلمیں بننا شروع ہو گئی ہیں، لیکن سب سے بڑا مسئلہ ان کی نمائش ہے کیونکہ ملک میں سنیما گھروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، وہ آج بھی کرائے کے گھر میں رہتی ہیں اور سماجی خدمات کے حوالے سے شہزاد رائے کے کام کو سراہتی ہیں۔

ثانیہ سعید نے کہا کہ پاکستان میں آزاد فلم سازی کو مزید سپورٹ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے موضوعات اور کہانیاں سامنے آ سکیں جو معاشرے کی حقیقی تصویر پیش کریں، نہ کہ صرف تجارتی کامیابی کو مدنظر رکھیں۔ ان کے مطابق پاکستانی سنیما کا مستقبل متنوع اور سماجی طور پر بامعنی مواد کی تیاری سے وابستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد اور غیر روایتی فلم ساز آج بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، خصوصاً ڈسٹری بیوشن اور سنیما اسکرینز تک رسائی کے معاملے میں اکثر اہم فلمیں مالی اور ادارہ جاتی معاونت نہ ہونے کے باعث محدود پیمانے پر رہ جاتی ہیں، جبکہ بہت سے منصوبے صرف ذاتی جذبے اور قربانی کی بنیاد پر مکمل کیے جاتے ہیں۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ شہروں کی شناخت صرف عمارتوں اور انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ ان کی ثقافت، فنون اور کہانیوں سے بھی بنتی ہے۔ ان کے مطابق سنیما معاشرتی حقیقتوں کو محفوظ کرنے اور مکالمے کو فروغ دینے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔

عمر کی بنیاد پر انڈسٹری میں امتیازی رویوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ سینئر اداکار نہیں بلکہ محدود موضوعات اور کہانیوں کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق اب ہر عمر کے کرداروں اور زندگی کے مختلف تجربات کو اسکرین پر مناسب نمائندگی نہیں مل رہی، جبکہ مکمل طور پر کمرشل سوچ اپنانے سے انڈسٹری کی ترجیحات بھی تبدیل ہو جاتی ہیں۔

سوشل میڈیا کے اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے ثانیہ سعید نے کہا کہ اگرچہ آج کل کاسٹنگ میں فالوورز کی تعداد کو بھی اہمیت دی جاتی ہے، تاہم حقیقی فن اور اداکاری کی صلاحیت کا کوئی متبادل موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :وفاقی بجٹ میں سندھ کی سڑکوں کیلئے کون سی رقوم مختص ہوئیں؟