11سال سے پی ٹی آئی کے کسی اہم عہدیدارپر حملہ نہیں ہوا،اس نرم رویہ کی کوئی تووجہ ہے؛طلال چودھری

Jan 12, 2026 | 18:32:PM
11سال سے پی ٹی آئی کے کسی اہم عہدیدارپر حملہ نہیں ہوا،اس نرم رویہ کی کوئی تووجہ ہے؛طلال چودھری
کیپشن: طلال چودھری میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کاکہناہے کہ سی ایم کے پی کے کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے ،یہ نرم رویہ نرم گوشے کی کوئی وجہ ہے ،آپ کے درمیان کوئی چیز تو مشترک ہے ،گیارہ سال سے پی ٹی آئی کے کسی اہم عہدے دار پر حملہ نہیں ہوا،ان کے علاوہ کے پی میں موجود تمام جماعتوں پر حملہ ہوا،وہ لوگ دہشت گردوں کے خلاف بولتے ہیں۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اپنی سٹریٹ موومنٹ میں ایسی بات کی جس سے قومی مفاد متاثر ہوا ہے ،میں ان کی سیاسی تقریروں پر بات کرنے نہیں آیا،انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے ابہام پیدا کیا ہے،وہ پچھلے تیرہ سال سے قومی بیانیے پر ابہام پیدا کرتے ہیں،دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے سے انکار کرتے ہیں ۔

طلال چودھری کاکہناتھا کہ ہمارے دونوں ہمسائے اس دہشت گردی کو سپورٹ کرتے ہیں،کیا آپ کو ابھی تک معلوم نہیں کہ دہشت گردی کہاں سے ہو رہی ہے،سی ایم کے پی کے اپنے آئی جی سے پوچھیں جو تشکیلیں آ رہی ان میں 70 فیصد افغان شہری ملوث ہیں،اگر یہ ساری چیزیں افغانستان کی ہیں تو ابہام پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ کاکہناتھا کہ کہتے ہیں آپریشن نہیں ہونے دیں گے ،یہ نرم رویہ نرم گوشے کی کوئی وجہ ہے ،آپ کے درمیان کوئی چیز تو مشترک ہے ،گیارہ سال سے پی ٹی آئی کے کسی اہم عہدے دار پر حملہ نہیں ہوا،ان کے علاوہ کے پی میں موجود تمام جماعتوں پر حملہ ہوا،وہ لوگ دہشت گردوں کے خلاف بولتے ہیں۔

طلال چودھری کاکہناتھا کہ بانی پی ٹی آئی کا ٹویٹ آج بھی موجود ہے کہ اے این پی پر حملہ اس لیے ہوتا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف بولتے ہیں،آپ کا انفارمیشن منسٹر دہشت گردی کے خلاف بات نہیں کرتا،آپ جہاں بھی گئے قومی بیانیے کے مخالف گئے ہیں،آپ کے ایک وزیر اعلیٰ نے آئی جی اور چیف سیکرٹری کو کہا کہ اگر ہم لڑیں گے تو اہم پی پی ، اے این پی بن جائیں گے،آپ کی آنکھوں کے سامنے ہزاروں لوگ شہید کیے گئے ہیں،2025 میں تاریخ کے سب سے زیادہ واقعات ہوئے ہیں ،دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات کے پی کے میں ہوئے ہیں،ان کاکہناتھا کہ سیف سٹی اس لیے نہیں بنایا جاتا کہ ان کی نقل و حرکت سامنے آئے گی،آپ نے دانستہ فرانزک لیب نہیں بنائی۔