بھارت کو ایک اور بڑا جھٹکا،میکسیکو نے50فیصدٹیرف لگا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)میکسیکو کی سینیٹ میں ایک بڑا تجارتی ترمیمی بِل پاس کرلیا گیا ہے، جس کے تحت چین، بھارت، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے آنے والی تقریباً 1,400 مصنوعات پر 50 فی صد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا،یہ بِل 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق میکسیکو نے جن مصنوعات پر ٹیرف لگایا ہے، ان اشیاء میں آٹوموبائل، آٹو پارٹس، کپڑے، جوتے چپل، پلاسٹک مصنوعات، سٹیل، ایلومینیم، شیشہ، فرنیچر اور کھلونے شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ان میں سے بعض اشیاء ایسی ہیں جن کی سپلائی چین ایشیا پر منحصر ہے، جن ممالک کا میکسیکو کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) نہیں ہے، ان کے لیے نیا ٹیریف تجارت میں مزید مشکلات پیدا کر دے گا اور تجارت مزید مہنگی بھی ہوجائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس سے میکسیکو کی مقامی فیکٹریوں کو فائدہ ہوگا، مگر امپورٹڈ پارٹس مہنگے ہونے سے مہنگائی کا دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے،مقامی کاروباری گروپس پہلے ہی اس قدم پر ناراض ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ایوانِ نمائندگان میں تاریخ کا سب سے بڑا 901 ارب ڈالر کا دفاعی بل منظور
میکسیکو پر ٹرمپ انتظامیہ مسلسل چین سے فاصلے بنانے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور میکسیکو کو چین کے لیے ”بیک ڈور انٹری پوائنٹ” قرار دیتی رہی ہے، اس پس منظر میں یہ قدم، ماہرین کے نزدیک، صرف تجارتی پالیسی نہیں بِلکہ جیو پولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
اس بِل میں میکسیکو کی پارلیمنٹ میں تیزی سے پیش رفت سامنے آئی ہے، 10 دسمبر کو ایوان زیریں میں بِل پاس ہوا اور 10 دسمبر کو ہی سینیٹ نے بِل کو منظور کرلیا۔