بھارت:بنگلہ دیشی لڑکی سے جسم فروشی کروانے والے گینگ کے3 افراد گرفتار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)بھارت کے شہر حیدرآباد کے پرانے شہر کے علاقہ میں بنگلہ دیشی لڑکی سے جسم فروشی کروانے والے ایک گینگ کا پولیس نے پردہ فاش کردیا اور3 افراد بشمول ایک آٹو ڈرائیور کو گرفتار کرلیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس حیدر آباد چندرائن گٹہ اے سدھاکر نے بتایا کہ 41 سالہ ہاجرہ بیگم ساکن اسمعیل نگر، 32 سالہ شہناز فاطمہ ساکن مراد نگر مہدی پٹنم اور 23 سالہ محمد سمیر ساکن حافظ بابانگر کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر دو افراد سرور ساکن حیدرآباد، روپا ساکن بنگلہ دیش ڈھاکہ مفرور بتائی گئی ہے۔ لڑکی کے ساتھ گزشتہ 6 ماہ سے ظلم جاری تھا۔ روپا جو بنگلہ دیش میں لڑکی کی پڑوسن تھی اس نے لڑکی کو اپنے جال میں پھانسا اور بھارت سیرو تفریح کروانے کے بہانے ملک کو لے آئی۔ یہ بات متاثرہ لڑکی نے جو اپنی جان بچا کر پولیس اسٹیشن آ کر بتائی۔ بنگلہ دیش سے لڑکی کو روپا نے بذریعہ سمندری راستے بھارت میں لے آئی اور شہناز کے حوالے کیا۔ شہناز نے ہاجرہ کے حوالے کردیا۔ ہاجرہ کے یہاں پہنچنے کے بعد لڑکی کو پتہ چلا کہ روپا نے اس کا سودا کردیا ہے جس کے بعد سمیر ہر دن اس لڑکی کو اپنے آٹو میں شہر کے مختلف مقامات پر لے جایا کرتا تھا جہاں ہر دن اس کسی نئے شخص کے حوالے کردیا جاتا۔ لڑکی نے ایک دن آٹو میں سفر کے دوران پولیس اسٹیشن کا بورڈ دیکھا اور گراہک کے پاس جانے کے دوران سمیر کو چکمہ دیکر پولیس اسٹیشن پہنچی اور پولیس میں شکایت کردی۔ انسپکٹر پولیس نے لڑکی کی شکایت پر خاتون پولیس عہدیدار سے بات چیت کرواتے ہوئے خاتون پولیس عہدیدار کے ذریعہ بیان قلمبند کروایا اور مقامی پولیس مفرور ملزموں کو تلاش کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فاسٹ بالر محمد شامی بار بار زخمی،کیا انکا کیریئر کے ختم ہونے کا خطرہ ہے؟