ہم نے ریاست بچائی،اکثریت ملی تووزیراعظم نوازشریف ہونگے:وزیراعظم

Aug 12, 2023 | 15:03:PM
ہم نے ریاست بچائی،اکثریت ملی تووزیراعظم نوازشریف ہونگے:وزیراعظم
کیپشن: وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف (فائل فوٹو)
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)وزیراعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ یہ مانتے ہیں ہمارا ووٹ بینک متاثر ہوا لیکن ہم نے ریاست بچائی ۔اکثریت ملی تووزیراعظم نوازشریف ہونگے۔

وزیراعظم شہبازشریف سے صحافیوں نے ملاقات کی ،ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ریاست بچ گیاتوسب کچھ بچ گیا،16ماہ مشکل حالات میں حکومت چلائی ،16 ماہ میں ایک روپے کا اسیکنڈل ہمارے خلاف نہیں آیا،آئندہ انتخابات " ووٹ کوعزت دو" کے نعرے پرلڑیں گے ۔
وزیراعظم سے اسٹبلشمنٹ سے تعلقات سےمتعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ہے کہ کس دورمیں میرے اسٹبلشمنٹ کےساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے،لیکن یہ بتائیں کہ مجھے کب اور کس موقع پر رعایت دی گئی، 16 ماہ کی حکومت میں 8 ماہ احتجاج اورمارچ کی نظرہوئے ،مسلم لیگ ن کا متفقہ فیصلہ ہےکہ اگراکثریت ملی تووزیراعظم نوازشریف ہونگے۔نوازشریف کی واپسی میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں ۔


انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ کی ترمیم سےنوازشریف کی نااہلی ختم ہوچکی ہے ،سوال کیا گیا کہ منصوبوں کی افتتاح تقریب میں آرمی چیف کی تعریف کی ،شہباز شریف نے جواب دیا کہ آرمی چیف کی تعریف کرنے میں حرج کیا ہے ؟نگراں وزیراعظم کا فیصلہ ایک دوروز میں ہوجائےگا،آج بھی ملاقات شیڈول ہے،انتخابات کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے، جماعت کی حیثیت سے انتخابات جلد از جلد ہوں ۔

ضرور پڑھیں:عمران خان کے لیے بڑا ریلیف ، نواز شریف کو بڑی شکست 
پاور سیکٹر میں میجر سرجری کی ضرورت ہے ، نوازشریف کا اس سے بڑا کیا کارنامہ ہوگا کہ اپنے دو میں 20 20 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ختم کی ،گزشتہ حکومت نے ملکی مفادات کو ملحفوظ خاطر نہیں رکھا ،3ستمبر 2014  رات 12 مجھے چینی سفیر کا فون آیا،چینی سفیر نے چینی صدر کا دورہ ملتوی ہونے کا بتایا،اگلے روز اس وقت کے آرمی چیف سے ملاقات کی ،ملاقات میں آرمی چیف سے چینی صدر کا دورہ یقینی بنانے کا کہا تاہم تحریک انصاف نے دھرنا ختم کرنے سے انکارکیا۔


انہوں نے کہا کہ16 ماہ کی حکومت کے سیاسی راز کبھی افشاں نہیں کروں گا،اگرہم کسٹم ڈیوٹی کی مد میں کنٹرول کرلیں تو نیا ٹیکس نہ لگانا پڑے ،ہم نے اشرافیہ پر سپر ٹیکس لگایا تو اسٹے آرڈ آگیا ،اس وقت عدلیہ میں 60 ہزار کیسز التواء کا شکار ہیں ،جس کے باعث 26 ہزار ارب روپیہ کی وصول ہے،تمام اتحادیوں نے نگراں وزیراعظم اختیار دیا ،صرف ایک جماعت نے کہا کہ ہماری لیڈرشپ سے بات کرلیں۔