27 ویں آئینی ترمیم منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش، اپوزیشن کے نامنظور کے نعرے

Nov 11, 2025 | 12:15:PM
27 ویں آئینی ترمیم منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں پیش، اپوزیشن کے نامنظور کے نعرے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں جاری ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے آغاز پر سینیٹر عرفان صدیقی کے لیے دعائے مغفرت کی گئی، اس کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بل کو پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔

اس دوران پی ٹی آئی کے ارکان  قومی اسمبلی بھی  ایوان میں آ گئے اور  آئینی ترمیم نامنظور کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دنیا بھر میں ججز تعینانی لارجر فورم کرتا ہے، 27ویں أئینی ترمیم پر وسیع مشاورت کا عمل مکمل کیا گیا، سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منطور کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 184کے تحت سو موٹو عفریت کی طرح أیا،  میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا، اسی اختیارکے تحت سابق وزرائے اعظم کو گھر بھیجا گیا، ماضی میں ججز کے آرٹیکل 200 کے تحت تبادلے ہوئے،  ان تبادلوں کو چیلنج کیا گیا، سنیارٹی کا ایشو بھی أیا۔

انہوں نے کہاکہ ایوان میں دو بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی روشنی میں ترامیم کا فیصلہ کیا، 26 ویں ترمیم میں مولانا فضل الرحمن کے کہنے پر آئینی عدالت کے بجائے آئینی بینچز تشکیل دیے گئے،  27ویں آئینی ترمیم پر وسیع اتفاق رائے پیدا کیا گیا، سینٹ نے 27ویں آئینی ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ ہم چاہتے تھے مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون کی کارروائی میں اپوزیشن بھی حصہ لیتی، آرٹیکل 184 کے تحت از خود نوٹس کا اختیار عفریت کی طرح ہمارے سامنے رہا، اسی اختیار کے تحت منتخب وزراء اعظم کو گھر بھیجا گیا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ترمیم کے ذریعے ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کا طریقہ کار وضع کیا گیا، اب دو عدالتیں ہونگی آئینی عدالت کو وہی اختیارات حاصل ہونگے جو آئینی بنچز کو حاصل تھے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں سینیٹ کے انتخابات میں تاخیر ہوئی،  الیکشن میں 1سال کی تاخیر ہوئی، فیصلہ ہوا ہے جو سینیٹر بعد میں منتخب ہوئے، ان کی مدت سے تاخیر والا دورانیہ نکال دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ ترمیم کے بعد اب عام آدمی کے کیس سننے کا سپریم کورٹ کے پاس مناسب وقت ہوگا، جوڈیشل کمیشنش سپریم جوڈیشل کونسل اور دیگر فورمز کے سربراہ فی الوقت چیف جسٹس سپریم کورٹ ہی ہوں گے، بعد ازاں چیف جسٹس آئینی عدالت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ میں سے سینیئر جج ان فورمز کی سربراہی کریں گے۔

خیبر پختونخوا میں سینیٹ انتخابات میں سیاسی بنیادوں پر ایک سال دو ماہ کی تاخیر ہوئی، سینٹ انتخابات میں تاخیر کو آئینی تحفظ دیا ہے۔

آج کے اجلاس میں دو تعلیمی اداروں کے قیام کے حکومتی بل بھی منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے 27ویں آئینی ترمیم کو ’باکو ترمیم‘ قرار دیدیا

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مرد آہن جب جیل سے نکلے گا  تو  یہ عدالتیں ختم کردیں گے،ہم قانون بنائیں اور قانون سے استثنیٰ لے لیں، کیا ہم ایک ایلیٹ کلاس لے کر آئیں جو قانون سے بھی بالاتر ہو، آصف زرداری پرکرپشن کیسز ہیں توکیا وہ پیش ہوکر نہیں کہہ سکتے کہ مجھ پرالزام غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں آئین میں تبدیلی اتفاق رائے سے کی جاتی ہے، آپ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کو ختم کردیا، آئندہ دنیا میں کہیں کوئی پاکستان کی نمائندگی ہوگی تو چیف جسٹس ہی موجود نہیں ہوگا، اب چیف جسٹس آف پاکستان کی جگہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کردیا گیا ہے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آپ نے چیف جسٹس آئینی عدالت کا کہا اور شامل کیا کہ وزیراعظم اسے لگائے گا، یہ آئینی ترمیم کا عمل مکمل غلط اور جمہوریت کے لیے زہر قاتل ہے، آپ نے دو لوٹوں کے ووٹ سے ترمیم پاس کروائی ہے ، لوٹوں سے بنی ترمیم عوام کی خدمت نہیں کر سکے گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ آپ کی سوچ اور ڈر کو سلام ہے، اتنا بھیانک ڈر کہ دروازہ نہ کھلے، کوئی اس سے نہ ملے، سوچتے ہیں کہ کہیں کوئی میسج ہی نہ آجائے، وہ مرد آہن  جب جیل سے نکلے گا تو  پھر یہ عدالتیں ختم کردیں گے۔ 

بیرسٹر گوہر علی خان نے ترمیم کو ’باکو ترمیم‘ قرار دیا اور کہا کہ اس کے بعد جمہوریت صرف نام کی ہوگی۔

 80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکا کیلئے تھا:خواجہ آصف

قومی اسمبلی اجلاس میں بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکا کیلئے تھا، اس ملک میں افغان جہاد لڑنے کے لیے تعلیمی نصاب تبدیل کیا گیا، آپ کا نصاب یونیورسٹی آف نبراسکا سے بن کر آیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ایک بندہ گوادر، چترال ،حیدرآباد اور لاہور میں پڑھ رہا ہے، ان میں کچھ مشترک نہیں، اس نصاب کی وجہ سے مذہبی شدت پسندی آئی، اسلام آباد میں دو تین ہزار مدرسے تھے اب ہزاروں ہیں، مدرسے قبضے کی زمینوں پر بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو فوجی ڈکٹیٹرز نے استعمال کیا، سب سے پہلے ایوب خان نے اسے استعمال کیا، ہم ایم این اے اپنی طاقت دینا نہیں چاہتے، ہم جمہوریت جمہوریت کہتے ہیں لیکن اس پر یقین نہیں کرتے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جب ٹیکس اکٹھا ہوگا تو لوکل گورنمنٹ کے پاس وسائل آجائیں گے، لوکل گورنمنٹ آپ کا مقامی اسپتال اور اسکول چلائیں گے، پارلیمنٹ کو ان باتوں پر مشترکہ اسٹینڈ لینا چاہیے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے قومی تشخص پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں، یہ چیزیں ہمیں نقصان پہنچائیں گی۔

  کیا فارم 47 کی پیداوار حکومت آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے؟:لطیف کھوسہ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق گورنر پنجاب اور رہنما پی ٹی آئی سردار لطیف کھوسہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں اس وقت لاشیں خون میں لت پت پڑی ہیں، کل اس ایوان میں کالے کوٹ والوں کے بارے میں پرتشدد گفتگو کی گئی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کل کی اس اشتعال انگیزی کی وجہ سے آج کچہری میں خودکش حملہ ہوا؟ سردار لطیف کھوسہ نے ایوان میں کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح بھی کالے کوٹ والے تھے، وزیرِ موصوف نے کل اشتعال انگیز تقریر کی، کیا ان پر مقدمہ ہوگا؟۔

انہوں نے موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ فارم 47 کی پیداوار حکومت عوام کی نمائندہ نہیں ہے، کیا یہ حکومت آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے؟۔

بلدیاتی نظام سے متعلق امور اگلی آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے:مصطفیٰ کمال

قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بلدیاتی نظام سے متعلق امور اگلی آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے۔

انہوں نے وفاقی کابینہ اور دیگر پارٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کے تمام اراکین نے ان کی ترمیم کی حمایت کی اور مشترکہ کمیٹی میں بھی اس پر غور کیا گیا۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کچھ پارٹیز کو ہماری ترمیم پر اعتراض تھا، لیکن ان شا اللہ 28ویں ترمیم میں بلدیاتی نظام کی تشریح بہت جلد سامنے آئے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ این ایف سی کے تحت فنڈز منتخب مقامی حکومتوں تک منتقل کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ کیے گئے تو لوگ منفی راستہ اپنا سکتے ہیں،انہوں نے نشاندہی کی کہ بلدیاتی ادارے تو قائم کیے گئے ہیں، مگر ان کی فنڈنگ کا کوئی واضح طریقہ کار ابھی وضع نہیں کیا گیا۔

اگر رویہ نہ بدلا تو ایسا نہ ہو کہ ان کے لیڈر کی وقت سے پہلے ہی فاتحہ پڑھ لی جائے، حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کو خبردار کردیا

 وزیر ریلوے حنیف عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ 78 سالہ تاریخ میں آج جو مقام پاکستان کو ملا ہے اس کی مثال شاذ و نادر ہے۔

وزیر ریلوے نے واضح کیا کہ ملکی مفاد سب سے مقدم ہے اور کوئی بھی ملک مخالف عناصر پاکستان میں برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

حنیف عباسی نے کہا کہ افغان مہاجرین کی دہائیوں تک میزبانی کی گئی، مگر جو پاکستان کے خلاف ہیں ان کے ساتھ دشمنی ہے، اختلافات کے باوجود قوم نے کبھی بھی ملک کے خلاف سوچا نہیں، اور مقامی لوگوں کو دہشت گردوں کے حملے بند کرنے کے لیے کہنے کے باوجود بھی دہشت گردوں نے حملے جاری رکھے، اُن کے الفاظ میں: "ہم اپنے عوام کا تحفظ کریں گے اور دہشت گردوں کا پیچھا کر کے انہیں ختم کریں گے۔”

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جو پاکستان کا بدخواہ ہے ہماری اس سےدشمنی ہے، ہم نےبھی جیلیں کاٹی ہیں لیکن ملک کےبارےمیں کبھی برانہیں سوچا، ہمارےاختلافات ہوسکتےہیں لیکن ہم نےکبھی کسی کواکسایانہیں، کبھی مقامی لوگوں کویہ نہیں کہاکہ دہشت گردوں پرحملہ نہ کرووہ بھی حملہ نہیں کرینگے، مطلب یہ دہشت گردوں کوکہتےہیں کہ پاک افواج،پولیس پرحملےکرو، ہم اپنےعوام کاتحفظ کریں گےاوردہشت گردوں کاپیچھاکرکےانہیں ختم کریں گے.

سہیل آفریدی کے حوالے سے انھوں نے کہا وزیراعلیٰ کے پی نے جو فورسز سے متعلق گفتگو کی ہے ان پر ہی الزام لگاتے ہیں، جو بارڈر پر پہلی گولی کا شکار بنتے ہیں ، نادان دوستوں کو مشورہ ہے ٹھنڈے دماغ سے سوچیں پاکستان مقدم ہے یا نہیں۔

پی ٹی آئی سے متعلق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ساتھ جو بھی ملا وہ رُل گیا، سلمان اکرم راجا اور لطیف کھوسہ کو دیکھیں، ان کا بیڑا غرق ہوگیا، ان کا ایک کام ہے کہ لیڈر باہر آجائے ، لیکن یاد رکھیں وہ اسی وقت باہر آئے گا جب عدالتیں اسے چھوڑیں گی۔

حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کو خبردار کیا کہ، اگر رویہ نہ بدلا تو ایسا نہ ہو کہ ان کے لیڈر کی وقت سے پہلے ہی فاتحہ پڑھ لی جائے۔

گزشتہ روز ایوان بالا (سینیٹ) نے 27ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور کرلی تھی، اپوزیشن جماعتوں ںے شور شرابہ کیا تھا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دی تھیں، پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے سینیٹر احمد خان نے پارٹی پالیسی کے خلاف حکومت کو ووٹ دیا تھا، مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، حق میں 64 ووٹ آئے تھے۔ 

آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے حکومت کو مشکلات یا اکثریت حاصل؟

حکمران اتحاد بل کی بآسانی منظوری کے لیے پر امید ہے کیونکہ انہیں ایوان میں دو تہائی سے زائد اکثریت حاصل ہے۔

ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں جبکہ حکمران اتحاد کے پاس 237 اراکین کی حمایت موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے 126 اور پیپلز پارٹی کے 74 اراکین نے ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5 اور استحکام پاکستان پارٹی کے 4 اراکین بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں گے۔

مزید برآں مسلم لیگ ضیاء، باپ پارٹی کے ایک ایک رکن اور 4 آزاد اراکین نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے۔

تاہم حکمران اتحاد میں شامل نیشنل پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز آئینی ترمیم کے بل کو ایوانِ بالا میں پیش کیا گیا تھا جہاں اس کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں پڑا۔