غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، جنگ مسلط کی تو بھرپور جواب دیں گے: اسماعیل بقائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ غیر معقول امریکی مطالبات قبول نہیں، اگر ایران پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا، تاہم جہاں سفارت کاری کا موقع ہوگا وہاں اسے بھی استعمال کیا جائے گا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کے بھی اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں، ایران ہمیشہ اپنے قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ امریکا غیر معقول مطالبات جاری رکھے ہوئے ہے، ایران نے امریکی صدر کی تجویز پر اپنا جواب گزشتہ روز پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا تھا، امریکی تجویز پر ایرانی جواب متوازن ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیشہ ورانہ انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، تاہم خطے کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکی تجاویز کا جواب دیا، چین کو آگاہ کر دیا کہ امریکی اقدامات سے عدم استحکام پیدا ہو گا، امریکی اقدامات سے خطے میں سلامتی سے متعلق مسائل پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:مسلط کردہ پالیسیوں نے صوبے کو بدامنی کی دلدل میں دھکیلا:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران نے امریکا کو منصفانہ اور ذمہ دارانہ پیشکش کی ہے، ایران نے جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے اور سمندری راستوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے منجمد اثاثوں کو غیر قانونی طور پر امریکی دباؤ کے باعث منجمد کیا گیا ہے، تاہم ایرانی منجمد اثاثوں سے پابندیاں ہٹانا بھی مطالبات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یورپی ممالک آبنائے ہرمز میں مداخلت سے گریز کریں، تاہم یورپی ممالک امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کا شکار نہ ہوں، جنگ نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی بھی ہے۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز یا خلیج فارس میں کسی بھی مداخلت سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں یورپی مداخلت سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گا۔