بنگلہ دیش نے پہلی مرتبہ آسٹریلیا سے ون ڈے میچ سیریز جیت لی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ڈھاکا میں آج کرکٹ کی تاریخ کا ایک نیا باب لکھا گیا۔ بنگلہ دیش کی ٹیم نے ہسٹری میں 21 سال بعد پہلی بار آسٹریلیا کی ٹیم سے مسلسل دوسرا انٹرنیشنل ون ڈے میچ جیت لیا اور ون ڈے انترنیشنل سیریز بھی جیت لی۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے شیر بنگال کرکٹ سٹیڈیم میں بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو پہلے ون ڈے میچ میں شکست دے کر 21 سال بعد ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہتھا۔ اس کے بعد آج دوسرے ون دے میچ میںبھی بنگلہ دیش نے مہمان ٹیم کو آؤٹ کلاس کر دیا۔کرکٹ کے موجودہ حالات اور دونوں ٹیموں کی طاقت کے فرق کے باعث اسے یقیناً ایک "اپ سیٹ" مانا جا رہا ہے۔
بنگلہ دیش نے آسٹڑیلیا کو 21سال بعد مسلسل دوسرا ون ڈے میچ ہرا دیا اور سیریز بھی جیت لی۔
بنگلہ دیش نے پہلی مرتبہ آسٹریلیا کو ون ڈے سیریز میں شکست دے دی۔
ناتجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل آسٹریلوی ٹیم کو بنگلہ دیش نے دوسرے ون ڈے میں 5 وکٹوں سے ہرایا۔
آسٹریلیا نے مقررہ 42 اوور میں 8 وکٹوں پر 187 رنز بنائے۔ بنگلادیش نے ڈک ورتھ لیوئس میتھیڈ کے تحت ملنے والا 192 رنز کا ہدف 35 اوور میں پورا کیا۔
آخری میچ میں بھی بنگلہ دیش نے مہمان ٹیم کو ہرا دیا تو وہ وائٹ واش جس کا بنگلہ دیش میں کسی نے تصور تک نہیں کیا تھا، وہ ممکن ہو سکتا ہے۔
پہلے ایک روزہ میچ میں بنگلادیش نے آسٹریلیا کو ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت 86 رنز کے مارجن سے شکست دی تھی۔
میچ میں کیا اپ سیٹ ہوا؟
بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کے خلاف 21 سال بعد کوئی ون ڈے میچ جیتا ہے。 آخری بار انہوں نے 2005 میں کارڈف کے میدان پر آسٹریلیا کو ہرایا تھا۔
ڈھاکا میں کھیلے گئے سیریز کے پہلے میچ میں آسٹریلیا کو اچانک شکست کا سامنا اس لئے بھی کرنا پڑٓ کہ میچ پر ڈی ایل ایس میتھڈ لگ گیا تھا۔ بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو ڈی ایل ایس (DLS) میتھڈ کے تحت 86 رنز کے بھاری مارجن سے شکست دی۔
یہ ریکارڈ کے ساتھ ساتھ اپ سیٹ کیوں ہے؟
بنگلہ دیش کی ٹیم نے بھارت اور سری لنکا مین ہوئے آئی سی سی ورلڈ کپ مین نہ کھیلنے کے باوجود تب سے اب تک ہر میچ میں بہترین کھیل پیش کیا ہے۔ اس کے برعکس آسٹریلیا کی ٹیم ورلڈ کپ کے بعد سے قدرے کمزوری کے ساتھ میچ کھیلتی رہی ہے۔ آج ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی بہتر ہوتی اور آسٹریلیا کی کمزور ہوتی ٹیم کے میچ میں بنگلہ دیش کی جیت کو تب بھی اپ سیٹ ہی تصور کیا جا رہا ہے۔
کھیلوں کی زبان میں "اپ سیٹ" تب ہوتا ہے جب ایک کمزور یا کم درجہ بندی والی ٹیم کسی انتہائی مضبوط اور فیورٹ ٹیم کو ہرا دے۔
اس شکست کے بعد آسٹریلیا کے سابق عظیم کرکٹر ایڈم گلکرسٹ جیسے ستاروں نے بھی آسٹریلین کرکٹ بورڈ اور ٹیم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
بنگلہ دیش نے اس جیت کے ساتھ تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی ہے۔
سکور بورڈ کا اوور ویو
اس تاریخی ون ڈے میچ کا مکمل سکور بورڈ اوور ویو درج ذیل ہے۔
بنگلہ دیش کی بیٹنگ
بنگلہ دیش نے مقررہ 50 اوورز میں 284 رنز بنائے اور اس کے 8 کھلاڑی آؤٹ ہوئے۔
نمایاں بلے باز میں مصدق حسین نے 86 رنز (70 گیندیں، 7 چوکے، 3 چھکے) بنائے۔ وہ ناٹ آؤٹ رہے اور آج کے پلئیر آف دی میچ بھی وہی رہے۔
نجم الحسن شانتو: نے 67 رنز (86 گیندیں) بنائے۔ تنزید حسن نے آک کے میچ میں 54 رنز (44 گیندیں) بنائے۔ تسکین احمد: 20 رنز (16 گیندیں) کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے۔
آسٹریلیا کی باؤلنگ
نیتھن ایلس نے 10 اوورز کئے اور 38 رنز، دے کر 3 وکٹیں لیں۔
میٹ رینشا نے 8 اوورز کئے، رینشا نے 35 رنز دیئے اور 2 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
لیام اسکاٹ نے 8 اوورز کئے۔ انہیں نسبتاً زیادہ 57 رنز، پڑے۔ لیام کو بھی دو وکٹیں ملیں۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ(ہدف کا تعاقب)
بارش کے باعث آسٹریلیا کو ڈی ایل ایس (DLS) کے تحت 42.2 اوورز میں 278 رنز بنانے کا نیا ہدف ملا تھا، لیکن آسٹریلوی ٹیم 191 رنز پر 9 وکٹیں گنوا چکی تھی جب طوفان اور بارش کے باعث میچ ختم کر کے بنگلہ دیش کو 86 رنز سے فاتح قرار دیا گیا۔
آسٹریلیا کی ٹارگٹ کو چیز کرنے والی بیٹنگ لائن میں آج بار بار زلزلے آتے رہے۔ اس دوران کیمرون گرین استقامت کے ساتھ بیٹنگ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ کیمرون نے 52 رنز (66 گیندیں) بنائے اور ناٹ آؤٹ واپس گئے۔
ایلکس کیری نے 47 رنز بنائے۔
بنگلہ دیش کی باؤلنگ
ناہید رانا نے 9 اوورز کئے۔ انہوں نے 41 رنز دے کر 4 وکٹیں لیں۔ آج کے میچ میں آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن کو مسلسل دباؤ میں رکھنے میں ناہید کا نمایاں حصہ رہا۔
مصدق حسین نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
میچ کا نتیجہ
بنگلہ دیش نے یہ میچ ڈی ایل ایس میتھڈ (DLS Method) کے تحت 86 رنز سے جیت لیا لیکن کہا جا رہا ہے کہ بارش کے سبب ڈی ایل ایس میتھڈ اپلائی نہ ہوتا تب بھی آسٹریلیا کی اس میچ مین ہار ابتدا ہی سے طے ہو چکی تھی۔ کیونکہ بنگلہ دیش کے باؤلرز نے ہوم وکٹ پر کسی آسٹریلین بیتر کو کچھ برٓ کرنے کے لئے کوئی موقع ہی نہیں دیا تھا۔
بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کی ون ڈے میچ ہسٹری
بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کے درمیان اب تک کل 24 ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ آسٹریلیا نے 20 میئچ جیتے ہیں۔
بنگلہ دیش کو آج کا میچ ہونے سے پہلے 3 میچ جیتنے کا موقع ملا۔ (پہلی جیت 2005 میں کارڈف کے میدان پر، اور دوسری اور تیسری جیت اسی حالیہ سیریز 2026 کے پہلے اور دوسرے میچ میں میرپور کے میدان پر ہوئی ہے)۔
بنگلہ دیش اور آسٹریلیا کا ایک میچ بغیر کسی نتیجے کے (No Result) بھی ختم ہوا۔
بنگلہ دیش اپنے ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا سے کتنے میچ ہارا؟
بنگلہ دیش اپنے ہوم گراؤنڈ پر آسٹریلیا کے خلاف اب تک کھیلے گئے میچوں میں سے 6 میچ ہارا ہے۔ آسٹریلیا نے اس سے قبل 2006 اور 2011 کے بنگلہ دیش کے دوروں پر تمام میچز (3-0 اور 3-0 سے) جیتے تھے۔
بنگلہ دیش آسٹریلیا دوروں (Tours) کے دوران کتنے میچ ہارا؟
آسٹریلیا نے جب بھی بنگلہ دیش کا دورہ کیا، وہ اس حالیہ سیریز (جون 2026) سے پہلے کبھی کوئی ون ڈے میچ نہیں ہارا تھا۔ تاہم، اس موجودہ ٹور پر آسٹریلیا اب تک شروع کے دونوں میچز (2 میچ) ہار چکا ہے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیش نے پہلی بار آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز بھی جیت لی ہے۔
انٹرنیشنل ٹورنامنٹس (آئی سی سی ایونٹس) میں دونوں ٹیمیں کتنی بار مقابل آئیں؟
انٹرنیشنل ٹورنامنٹس (جیسے کہ آئی سی سی ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی) اور ملٹی ٹیم ٹورنامنٹس (جیسے نیٹ ویسٹ ٹرائے سیریز) میں دونوں ٹیمیں اب تک 6 بار ایک دوسرے کے سامنے آئی ہیں:
آئی سی سی ورلڈ کپ (4 بار): 1999، 2007، 2019 اور 2023 کے ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں دونوں کا سامنا ہوا (ان تمام میچوں میں آسٹریلیا نے فتح حاصل کی)۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی (1 بار): 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کا میچ بارش کی وجہ سے بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا تھا۔
نیٹ ویسٹ ٹرائے سیریز 2005 (1 بار): انگلینڈ میں کھیلی گئی اس سہ ملکی سیریز میں بنگلہ دیش نے آسٹریلیا کو تاریخی شکست دی تھی۔