حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب ، چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی:وزیر خزانہ

Jun 11, 2026 | 14:37:PM
حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب ، چیلنجز کے باوجود معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی:وزیر خزانہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پورے سال کی مالی کارکردگی پر مبنی اقتصادی سروے جاری کر دیا جس کے مطابق کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے۔
قومی اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی سروے پورے مالی سال کی کارکردگی بیان کرتا ہے، رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا تھا اور مون سون کی بارشوں کی وجہ سے معشیت متاثر ہوئی جب کہ امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

 انہوں نے بتایا کہ حکومت بحرانوں سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی، معاشی ترقی کی شرح نمو3.7فیصد رہی، توقع تھی رواں مالی سال شرح نمو 4 فیصد سے زائد رہے گی۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال پیدا نہ ہوتی تو جی ڈی پی گروتھ 4 فیصد سے اوپر جاتی، پاکستانی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر سے اوپر چلا گیا، فی کس اوسط سالانہ آمدن 1751ڈالر سے بڑھ کر 1901ڈالر ہوگئی۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال سے بین الاقوامی معیشتوں کو بھی دھچکا لگا لیکن مشرق وسطیٰ کے بحران کے باوجود معاشی کارکردگی اچھی رہی۔

وزیر خزانہ  نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں 5 فیصد گروتھ ہوئی، جولائی تا مارچ کرنٹ اکاوئنٹ 72 ملین ڈالر مثبت رہا، زرعی شعبے کی شرح نمو 2.89 فیصدرہی، ڈیری اورلائیو سٹاک کا زرعی معیشت میں 60 فیصدحصہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی ، فوڈ ،ٹیکسٹائل سمیت 16 شعبوں میں مثبت رجحان رہا، سیمنٹ کی طلب میں 10 فیصد اضافہ ہوا، کھاد کی طلب میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، خدمات کے شعبے میں شرح نمو 4.9 فیصد رہی۔

وزیر خزانہ کے مطابق مالی نظم و ضبط کی وجہ سے مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی ہوئی، ایف بی آر کے محصولات میں 10.1 فیصد اضافہ ہوا، افراط زر میں گزشتہ 2 سال میں بتدریج کمی ہوئی، مہنگائی کی اوسط شرح 6.7 فیصد رہی، ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، اوورسیز پاکستانیوں کے شکرگزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی ادائیگی کیلئے ترسیلات زر بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، چاول اور چینی کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی، ٹیکسٹائل کے شعبے کا برآمدات میں کلیدی کردار ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ فیفا ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا ہوا فٹ بال استعمال ہوگا، سپورٹس کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے زائد ہیں،جون کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 3 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، فری لانسرز کا حصہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ رہا ہے، مینو فیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں میں بہتری آئی، مالی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کا صرف 0.7 فیصد رہ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 252 ملین ڈالر رہ گیا، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، پانڈا بانڈ کا کامیاب اجراء کیا گیا، ٹیکس محصولات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا، وزیراعظم برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی تاکہ ملکی معیشت کو مزید مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ  اوروزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔