ہمارا نظام بیماری کا نظام ہے: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ہیلتھ کیئر کو نیشنل سکیورٹی ایشو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر بیماری میں ہم نمبر ون بننے جارہے ہیں۔
اسلام آباد میں جینوم پروفائل سے متعلق پریس کانفرنس کرتےہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو نئی ٹیکنالوجی اور جدید رپورٹس کو ترجیح دینا ہوگی، ہیلتھ کیئر نیشنل سکیورٹی ایشو ہے، ہم ہر بیماری میں ہم نمبر ون بننے جا رہے ہیں، ملک میں کوئی وبا نہیں پھوٹی ہوئی لیکن ہسپتالوں میں وبائی مرض کی صورتحال ہے، ہمارا نظام بیماری کا نظام ہے، ہسپتال بھرے پڑے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سالانہ ان بیماریوں پر 200 سے 300 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، لاکھوں روپے دے کر باہر سے ٹیسٹ کرواتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بجٹ عوامی امنگوں کے مطابق نہیں ہو گا: فواد چودھری
ہم نیوکلئیر پاور ہیں ہمارے پاس لیبز ہونی چاہئیں، بجٹ میں کٹوٹی پر کٹوتی ہو رہی ہے مگر ہم ہار نہیں مانیں گے۔
وزیر صحت کا کہنا تھاکہ کہ ہمیں ہیلتھ کیئر کی جانب جانا ہے، شادی سے قبل اسکریننگ کی جانب جانا ہوگا جس کے لیے اسکریننگ سینٹرز بنا رہے ہیں۔
شادی سے پہلے تھیلیسیما کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے جا رہے ہیں۔
انہوں نےمزید کہا کہ ملک 2030 تک دنیا کی چوتھی بڑی آبادی بننے جا رہا ہے۔
معاشی بحران اور وسائل کی کمی کے باعث برین ڈرین ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، کوئی بھی ملک برین ڈرین برداشت نہیں کرسکتا۔