حیدر آباد :شادی میں کسٹرڈ کھانے سے 100 افراد ہسپتال پہنچ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)حیدرآباد میں شادی کی تقریب میں پیش کیا گیا ناقص کسٹرڈ کھانے سے تقریباً 100 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قاسم آباد کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے کے متاثرین میں بچے، نوجوان اور معمر افراد شامل ہیں۔
جنہیں پیٹ میں شدید درد اور قے کی شکایات کے بعد فوری طور پر قاسم آباد تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور مریضوں کو طبی امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک متاثرہ نوجوان نے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کسٹرڈ کھانے کے فوراً بعد ہی طبیعت خراب ہوئی اور شدید درد کا سامنا کرنا پڑا۔
ڈپٹی کمشنر زین العابدین میمن نے ابتدائی رپورٹ کی روشنی میں کسٹرڈ کو ہی اس واقعے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں:بلوچستان میں ہڑتال اور مس کنڈکٹ پر 23 ڈاکٹرز معطل
دریں اثنا انتظامیہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ فوڈ اتھارٹی کو متعلقہ پکوان سینٹر کی جانچ پڑتال کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
ڈی ایچ او ڈاکٹر پیر غلام حسین نے واضح کیا کہ متاثرہ تمام افراد کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم انہیں تاحال زیرِ نگرانی رکھا گیا ہے۔
حکام واقعے کے محرکات جاننے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آئندہ ایسی غفلت نہ ہو۔
ہسپتال میں متاثرین کی مسلسل دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔