فیض حمید کی سزا تاریخی اور درست فیصلہ ہے، فیصل واوڈا کا ردعمل بھی آ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ فیض حمید کی سزا تاریخی اور درست فیصلہ ہے، قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی کیس تھا اور منطقی انجام بالکل درست انداز میں پہنچا ہے،فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ سزا اور جزا کے نظام سے کوئی بالاتر نہیں، کوئی پاکستان سے بڑا نہیں، اب کسی کو شکوہ اور شکایت نہیں ہونی چاہیے، پاکستان میں سزا اور جزا کا نظام مضبوط بنیاد پر قائم ہو گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ بہت خوش آئند اور زبردست فیصلہ ہے، جو پاکستان کو نقصان پہنچائے گا اس کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی،اہم ادارے نے سزا اور جزا کے نظام کو خود سے شروع کیا ہے، فیض حمید نے بہت سی چیزیں اپنی ڈومین سے نکل کر کیں، سیاست بھی کی اور بغاوت بھی، جس کی سزا ملی۔
فیصل واوڈا نے چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو بھی کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان کو یہ پیغام جا چکا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں،انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے جو تباہی کی اور جو سیاسی پشت پناہی حاصل تھی، آج اس کی سزا مل گئی، میری نظر میں ان کیخلاف بہترین اورزبردست فیصلہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تعلیمی ادارے 22 سے 31دسمبر تک بند رہیں گے
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ فیض حمید کا سیاست میں عمل دخل ثابت ہو گیا، فوج کا اندرونی احتساب کا نظام مضبوط ہے، فیض حمید کا ساتھ دینے والوں کا بھی ٹرائل ہونا چاہئے۔
فیض حمید کو سزا سنائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فیض حمید اپنی سرکاری اورعسکری حیثیت کا ناجائز استعمال کرتے رہے، میرے خلاف مقدمے میں بھی فیض حمید براہ راست ملوث تھے، سزا پر خوشی کااظہار نہیں کررہا،فوج جیسے ادارے کی بہت اہمیت ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فوج میں احتساب اورڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن کا مضبوط نظام موجود ہے، فیض حمید سیاسی سرگرمیوں میں ملوث تھے تو وہ اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے تھے، کوئی سیاستدان ساتھ تھا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت ساتھ دے رہی تھی، جو سیاستدان شامل تھے ان کے خلاف بھی کارروائی .ہونی چاہئے، فیض حمید کی 9مئی واقعہ میں ملوث ہونے کی افواہیں بہت دیر سے موجود ہیں، جو ان کے ساتھ لوگ ملوث تھے ان کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں چل سکتا ہے۔