پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع، پی وی آر اے کو 70 درخواستیں موصول
70 درخواستیں موصول، مقررہ شرائط پوری کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس ملے گا ؛چیئرمین پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم)چیئرمین پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی آر اے) بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کو باقاعدہ ریگولیٹری نظام کے تحت لانے کے لیے لائسنسنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ اتھارٹی کو اب تک ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروبار اور خدمات فراہم کرنے کے خواہش مند اداروں کی جانب سے 70 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
بلال بن ثاقب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو منظم کرنے کے لیے جامع ریگولیٹری فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے اور اس فریم ورک پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اور متعلقہ خدمات کے لیے باقاعدہ لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق لائسنسنگ کا مقصد ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو ایک واضح، شفاف اور نگرانی کے قابل نظام کے تحت لانا ہے۔
چیئرمین پی وی آر اے نے بتایا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے ضروری فریم ورک کی تیاری کا عمل صرف 6 ماہ میں مکمل کیا گیا۔ ان کے مطابق اس دوران ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق کاروباری سرگرمیوں، لائسنسنگ، نگرانی اور شفافیت سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریگولیٹری نظام تشکیل دیا گیا ہے۔
70 درخواستیں موصول، مقررہ شرائط پوری کرنے والی کمپنیوں کو لائسنس ملے گا
بلال بن ثاقب کے مطابق پی وی آر اے کو اب تک 70 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ ان درخواستوں کا جائزہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت لیا جائے گا اور جو کمپنیاں مقررہ معیار اور ضوابط پر پورا اتریں گی انہیں ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت سمیت متعلقہ سرگرمیوں کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کو اب ایک باقاعدہ ریگولیٹری نظام کے تحت اپنی سرگرمیاں انجام دینا ہوں گی۔ اس نظام کے ذریعے مارکیٹ میں شفافیت پیدا کرنے، اداروں کی نگرانی کرنے اور ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی۔
6 ماہ میں ریگولیٹری فریم ورک تیار
چیئرمین پی وی آر اے نے کہا کہ پاکستان نے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ضروری ریگولیٹری فریم ورک صرف 6 ماہ میں تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق اتھارٹی نے مختصر مدت میں ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کی نگرانی اور ریگولیشن کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کیا، جس کے تحت لائسنسنگ اور دیگر متعلقہ معاملات کو منظم کیا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر پاکستان میں بھی اس شعبے کو نظر انداز کرنے کے بجائے اسے باقاعدہ قانونی اور ریگولیٹری نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
پی وی آر اے نے صرف 8 فیصد بجٹ استعمال کیا
بلال بن ثاقب نے اتھارٹی کے مالی معاملات سے متعلق بھی اہم تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پی وی آر اے نے رواں سال اپنے مقررہ بجٹ کا صرف 8 فیصد استعمال کیا ہے، جبکہ باقی 92 فیصد بجٹ قومی خزانے میں واپس جمع کرا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے تمام ضروری فریم ورک کی تیاری کے باوجود اتھارٹی نے اپنے مختص بجٹ کا بہت محدود حصہ استعمال کیا۔ ان کے مطابق 92 فیصد بجٹ واپس قومی خزانے میں جمع کرانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری کے دوران اخراجات کو محدود رکھا گیا۔
بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ صرف 8 فیصد بجٹ استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں کی ریگولیشن کے لیے ضروری فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن پر پالیسی پیپر پیش ہوگا
چیئرمین پی وی آر اے نے کہا کہ پاکستان پہلی مرتبہ اقوام متحدہ میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن کے موضوع پر پالیسی پیپر پیش کرے گا۔
ان کے مطابق پاکستان عالمی سطح پر ڈیجیٹل اثاثوں کے فریم ورک اور ریگولیشنز کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور پہلی بار اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اس شعبے سے متعلق پالیسی اور ریگولیٹری معاملات کو لیڈ کر رہا ہے۔
بلال بن ثاقب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں اور ٹوکنائزیشن کے حوالے سے عالمی سطح پر پالیسی سازی کا عمل جاری ہے اور پاکستان اس عمل میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنے ریگولیٹری تجربات اور پالیسی فریم ورک کو اجاگر کر رہا ہے۔
سٹیٹ بینک کے ساتھ ترسیلات زر پر بات چیت جاری
چیئرمین پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے عمل کو مزید آسان، تیز اور کم خرچ بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خصوصاً اسٹیبل کوائنز کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق اسٹیبل کوائنز کے ذریعے بیرون ملک سے پاکستان رقم منتقل کرنے کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے،ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ترسیلات زر کی منتقلی پر آنے والے اخراجات تقریباً 6 فیصد تک ہو سکتے ہیں، تاہم اسٹیبل کوائنز کے مؤثر اور ریگولیٹڈ استعمال کے ذریعے ان اخراجات کو کم کرکے تقریباً ایک فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لائیو رپورٹنگ کے دوران دل دہلا دینے والا واقعہ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی