توشہ خانہ ٹو کیس: بانی پی ٹی آئی کی جانب سےجمع کرایا گیا 342 کا بیان سامنے آگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی نے اہلیہ بشریٰ بی بی کو ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق اپنا 342 کا بیان ریکارڈ کروا دیا ۔
راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل کی خصوصی عدالت میں با نی پی ٹی آئی اور اِن کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے،خصوصی عدالت نے انتیس انتیس سوالات پر مشتمل دفعہ 342 کا سوالنامہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو دیا تھا جسے گزشتہ روزعدالت میں جمع کروادیاگیا۔
بانی پی ٹی آئی نے اپنے 342 کے بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2018ء میں توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحفے سے متعلق صرف رپورٹ نہ کرنے پر ایکشن نہیں لیا جاسکتا، توشہ خانہ تحائف سات سے 10 مئی 2021ء کے درمیان وصول کئے ،اس پر نیب کیس بنا، ایف آئی اے کے دائرہ اختیار سے متعلق توشہ خانہ رولز مکمل خاموش ہیں، اسی بنیاد پر چوتھے جعلی توشہ خانہ کیس میں مجھے اور میری بیوی کو بری کرنا بنتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی نے اپنے بیان میں کہا کہ نومبر 2022ء سے میرے خلاف ایسے من گھڑت کیسز بنائے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کی ماریہ کورینہ نے امن کانوبل انعام جیت لیا
بانی پی ٹی آئی نے اپنے 342 کے بیان میں کیس کے گواہ انعام اللہ سے متعلق کہا کہ انعام اللہ شاہ مرکزی گواہ ہے جس پر اعتماد کچھ وجوہات کی بنا پر نہیں کیا جاسکتا، بددیانتی سے دو تنخواہیں لینے پر انعام اللہ شاہ کو وزیراعظم آفس سے برطرف کیا گیا، انعام اللّہ شاہ جہانگیر ترین کے ٹول کے طور پر کام کر رہا تھا۔
بانی پی ٹی آئی نے مزیدکہاہےکہ انعام اللہ شاہ پہلے نیب ریفرنس میں بطور گواہ پیش ہوا تو بلغاری سیٹ کا ذکر تک نہیں کیا۔