مودی کی ناکام خارجہ پالیسی نے بھارت کو معاشی و سفارتی محاذ پر تنہا کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) انتخابات میں دھاندلی کے الزامات نے اقتدار پر قابض مودی سرکار کے لیے مشکلات مزید بڑھا دیں۔
بین الاقوامی جریدے رائٹرز کے مطابق بھارتی وزیرِاعظم مودی اپنے 11 سالہ اقتدار کے سب سے مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی اور امریکا سے سفارتی سرد مہری مودی کیلئے امتحان بن گئی ہے۔
کانگریس کا بی جے پی پر 2024 کے انتخابات میں جعلی ووٹروں کے ذریعے دھاندلی کا الزام اور بہار کے ریاستی انتخابات میں شکست مودی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچائے گی۔ امریکا پہلے ہی بھارتی درآمدات پر 50 فیصد بھاری اور بدترین محصولات عائد کر چکا ہے۔
نئی دہلی کی سیاسی تجزیہ کار آرتی جیراتھ کے مطابق مودی وہ طاقت اور جرات نہیں دکھا سکا جس کا وہ دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق محصولات کی جنگ بہار انتخابات میں مودی کی مہم کا مرکزی نکتہ ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں مہلک وائرس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،ہسپتال بھر گئے
ووٹ وائب ایجنسی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق مودی کا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس ریاست میں اقتدار برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہو گا۔ ووٹ وائب کے بانی امیتابھ تیواری کے مطابق ٹرمپ کے خلاف ردعمل میں مودی کا آئندہ ہفتوں میں چین اور روس کا دورہ متوقع ہے۔
ڈیٹا انٹیلیجنس فرم "مارننگ کنسلٹ" کے مطابق پاکستان سے اچانک جنگ بندی نے مودی کے بنیادی ہندو قوم پرست حامیوں کو بھی پریشان کر دیا۔ مودی کی ناقص پالیسیاں بھارت سمیت بی جے پی کے لیے بھی خطرے کا پیش خیمہ بن گئیں۔