آو جاپان چلیں (آخری قسط )
حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com
Stay tuned with 24 News HD Android App
19 ستمبر کی صبح مجھے ٹوکیو سے براستہ بنکاک لاہور کے لیے اڑان بھرناتھی، اشفاق الرحمن ہاشمی بھائی جس طرح مجھے ہنیڈا ائیرپورٹ پر لینے آئے تھے اسی طرح وہ آج مجھے الوداع کرنے کے لیے ہنیڈا ائیرپورٹ جارہے تھے،یہاں ایک بات کا ذکر کرتا چلوں جو کہ میں نے شروع میں نہیں کی جس وقت ٹوکیو پہنچنے پر میری امیگریشن کے دوران مسئلہ پیدا ہوا اور جاپانی حکام نے اشفاق الرحمن ہاشمی بھائی سے میری گارنٹی طلب کی تو اس وقت ہاشمی صاحب نے میرے استاد محترم اور اپنے کلاس فیلو ارشد ستار صاحب کو کال کی تو انہوں نے اشفاق صاحب سے کہا کہ جس طرح آپ آج شہباز کو لینے آئے ہیں اسی طرح آپ اسے ائیر پورٹ چھوڑنے بھی آئیں گے یہ میری گارنٹی ہے ، بہر حال ہم جاپان کے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے پانچ بجے گھر سے نکلے اور کچھ ہی فاصلے پر ایک سپر سٹور سے اشفاق الرحمن صاحب نے سٹار بکس کی کولڈ کافی کے ساتھ ناشتے کے لیے ایپل بریڈ لی جس سے ہم نے گاڑی میں چلتے چلتے ہی ناشتہ کیا، بہر حال اڑھائی گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم ہنیڈا ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے ، اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب نے بوجھل لہجے میں مجھے الوداع کیا۔ ٹوکیو میں سات دن کا قیام تو ختم ہورہا تھا مگر اس قیام کے دوران اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب جیسے مخلص شخص سے جو تعلق قائم ہوا وہ تازندگی میرے ساتھ رہے گا ٹوکیو میں قیام کے دوران جس طرح ہاشمی صاحب ،ان کے بچوں نے جس طرح میرا خیال رکھا مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کہ میں ہزاروں میل دور ہوں,اسی طرح پرانے دوست یوسف مغل نے مجھے ٹوکیو کی سیر بھی کروائی اور وہاں لذیذ پاکستانی کھانے بھی کھلائے یوسف مغل سے طوءل عرصے بعد ملاقات سے بہت سی پرانی یادیں تازہ ہوگئیں ،،بہر حال ضروری کاروائی کے بعد کچھ دیر بعد میں ہنیڈا ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوگیا، یہاں چیک ان کے دوران میں اپنے موبائل فون باسکٹ میں بھول گیا جب ائیر پورٹ کے اندر جاکر میں نے فون کرنے کے لیے موبائل نکالنے کے لیے جیب میں ہاتھ ڈالا تو میرا موبائل غائب تھا جس پر میں مجھے یاد آیا کہ میں چیکنگ کے وقت اپنا موبائل لینا بھول گیا تھا میں فوری واپس گیا اور سیکیورٹی اہلکار کو بتاہا کہ میرا موبائل فون رہ گیاہے وہ مجھے متعلقہ اہلکار کے پاس لے گیا میں نے ڈیوٹی پر موجود اہلکار کو اپنے موبائل کے حوالے سے کہا تو اس نے میرا موبائل سیٹ مجھے تھماتے ہوئے مجھے سیٹ ان لاک کرنے کو کہا میں نے سیٹ ان لاک کیا تو اس نے اپنی سہولت کے لئے میرے بورڈنگ کارڈ کا نمبر لکھ کر مجھے جانے دیا۔

ہنیڈا ائیرپورٹ امیگریشن کروانے کے بعد میں کافی دیر اندر ہی گھومتا رہا اسی دوران ایشین اتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی صاحب بھی ائیر پورٹ پہنچ گئے ہم محو گفتگو تھے کہ ڈاکٹر علی شیر باجوہ بھی آگئے ، کچھ دیر بات چیت کے بعد میں نے ڈاکٹر باجوہ سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر صاحب اصل میں ارشد ندیم کے ساتھ ہوا کیاہے تو ڈاکٹر علی شیر باجوہ نے کہا کہ ہم نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح ارشد ندیم اچھا پرفارم کر جائے مگر ایسا نہیں ہوسکا ، ڈاکٹر باجوہ کا کہنا تھا کہ میں نے ارشد ندیم کی سرجری کے بعد سلمان اقبال بٹ کو یہ کہہ دیا تھا کہ ارشد کا ری ہیب پورا مکمل ہونے دیں اور اگر آپ نے ری ہیب کے دوران ورلڈ چیمپئن شپ میں جانا ہے تو وہاں اچھے نتائج کا امکانات انتہائی کم ہو ں گے تاہم سلمان بٹ اور ارشد ندیم نے ورلڈ چیمپئن شپ میں جانے کا فیصلہ کیا یہاں میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ انجری کے باوجود ارشد ندیم کا فائنل تک پہنچنا حوصلہ افزا ہے ، ارشد کے مستقبل کے حوالے سے ڈاکٹر باجوہ نے کہا کہ اب ارشد ندیم کو آٹھ ہفتے مکمل آرام کرنا چاہئے اور پھر اس کے دوبارہ نئے سرے سے ٹریننگ کا آغاز کرنا ہوگا، ڈاکٹر باجوہ کے مطابق ارشد ندیم کی سرجری کے بعد ان کا ری ہیب مکمل ہونا انتہائی ضروری ہے، ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ہفتے آرام کے بعد میری ڈیوٹی مکمل ہو جائے گی اور پھر ان کی پرفارمنس ٹیم کا کام ہوگا کہ وہ کیا پلان کرتے ہیں اسی دوران جہاز میں چیک ان کرنے کی اناونسمنٹ ہوگئی جہاز میں داخلے کے وقت میری فخر پاکستان ارشد ندیم کے ساتھ بھی سلام دعا ہوئی ارشد ندیم بزنس کلاس میں سفر کر رہے تھے ، کچھ دیر بعد ہمارا جہاز ٹیک آف کے لیے تیار تھا ۔ جہاز ٹیکسی کرتا ہوا ٹیک آف کی جگہ پر پہنچا تو یہ عین سمندر کے اندر پل نما رن وے تھا جہاں سے جہاز نے ٹیک آف کرنا تھا بہر حال جہاز نے ٹیک آف کیا اور ساڑھے چھ گھنٹے بعد ہم لوگ بنکاک ائیر پورٹ پہنچ چکے تھے، بنکاک ائیر پورٹ پر جہاز سے باہر آنے پرلابی میں میری ارشد ندیم سے دوبارہ ملاقات ہوئی اور اس مرتبہ ان سے کوئی دس منٹ تک بات چیت ہوئی جس میں ارشد ندیم نے بتایا کہ انہوں نے اپنے تئیں پوری کوشش کہ بہتر نتائج آئیں مگر فٹنس مسائل کے باعث ان کو مشکلات کا سامنا رہا ہے ، یہاں سے ہم لوگ ٹرانسفر لاونج میں چلے گئے ، ڈیوٹی فری شاپ سے بچوں اور دوستوں کے کے لیے چاکلیٹس خریدنے کے بعد میں نے ایک سائیڈ پر جاکر آنکھ لگالی ۔
ٹوکیو سے بنکاک اور بنکاک سے لاہور تک میں ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے انتظامات اتھلیٹس کی کارکردگی دنیا کے کوچنگ کے نظام اور جاپان اور پاکستان کے حالات کا موازنہ کرتا رہا ۔

اگر ہم دنیا اور پاکستان کے کھیلوں کے نظام کا موازنہ کریں تو مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ہم دنیا سے کم ازکم پچاس سال پیچھے ہیں،اگر صرف اتھلیٹکس کوچنگ کی بات کریں تو یقین مانیں کہ ہمارے کوچز کی اکثریت بنیادی کوچنگ سے بھی دور ہے کیوں کہ دنیا میں کوچنگ کورس کے ساتھ ساتھ کوچ کی سوچ کا بھی بہت زیادہ عمل دخل ہے، اتھلیٹ کو کب کتنی ٹریننگ کروانی ہے ، اس کی خوراک کیا ہوگی، اس کی بائیو مکینکس کیا ہوں گی ، اتھلیٹ کی فلیکسبیلٹی اور اجلیٹی کو کیسے بہتر کرنا ہے ، کسی بھی ایونٹ سے قبل اتھلیٹ کی ڈائٹ پلان کیا ہوا ،اسی کتنے وٹامنز دینے ہیں ، اسے کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے ،اتھلیٹ کی ڈائٹ میں کتنی پروٹین ہوگی اور بھی بہت سے چیزیں ہیں، جن سے ہمارے کوچز کی اکثریت نابلد ہے، اب تھوڑا سا ذکر فخر پاکستان ارشد ندیم کے مستقبل کا ہوجائے ۔ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جو ہونا تھا وہ ہوچکا ہے کون اس کا ذمہ دار ہے کس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا اس کا جائزہ ضرور لیا جانا چاہیے مگر اب وقت کا تقاضا یہ ہے کہ اب پاکستان سپورٹس بورڈ کو اتھلیٹکس آف پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر ارشد ندیم کے مستقبل کی حکمت عملی بنانا ہوگی اگر پی ایس بی حکام نے اپنی روش نہ بدلی اور ارشد ندیم کے معاملات کو خود سے چلانے کی کوشش کی تو پھر حالیہ نتائج سے مختلف نتائج آنا انتہائی مشکل ہے ، اس لیے اب وقت ہے کہ تمام تر معاملات پس پشت ڈال کر پاکستان سپورٹس بورڈ اور اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان کو مل بیٹھ کرایشین گیمز 2026، ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن 2027 اور پھر لاس اینجلس اولمپکس میں ارشد ندیم کی شرکت کے اور کامیابی کے لئے پلان بنانا ہوگا ۔ کوئی مانے یا نہ مانے ارشد ندیم کو اس وقت دوبارہ کامیابیوں کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے ورلڈ کلاس کوچنگ کی ضرورت ہے اوریہ بات طے ہے کہ پاکستان میں جیولن تھرو کا کوئی ورلڈ کلاس کوچ نہیں ہے اس لیے ارشد ندیم کے لیے ورلڈ کلاس کوچ کی تعیناتی اولین ترجیح ہونی چاہیے،ایک بات طے ہے کہ ٹوکیو اولمپکس کے بعد پیرس اولمپکس تک ارشد ندیم کی کامیابیوں کے پیچھے ایک پوری حکمت عملی موجود تھی اس دوران ارشد ندیم کو مختلف اوقات میں ٹریس لیبن برگ کے پاس ٹریننگ کے لیے بھجوایا گیااور دیگر اقدامات کیے گیے لہذا ابھی وقت ہے کہ معاملات کو طے کیا جائے اگر اس معاملے پر لاپرواہی کی گئی تو پھر نتائج مزید خراب ہوسکتے ہیں ، جہاں تک جاپان کی بات ہے تو اگر دنیا میں کسی نے تہذیب وتمدن ، باہمی اخلاص ، امن و سکون پر مشتمل معاشرہ ، وفاداری ، قانون پر عمل داری اور انسانیت کی بہترین مثال دیکھنی ہے تو وہ جاپانی قوم کو دیکھ لے، ہم جو کچھ اسلامی تاریخ اور اسلامی رواداری کے بارے میں پڑھتے ہیں وہ سب کچھ ہمیں جاپانی قوم میں ملے گا۔
ختم شد