علی امین گنڈاپورکو نکالنے کا فیصلہ احمقانہ ہے؛ سلیم بخاری

Oct 09, 2025 | 00:17:AM
علی امین گنڈاپورکو نکالنے کا فیصلہ احمقانہ ہے؛ سلیم بخاری
کیپشن: سلیم بخاری شو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (فرخ احمد)سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم بخاری نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو تبدیل کرنے کے فیصلے کو احمقانہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے تو صوبائی حکومت کس طرح سے روک سکتی ہے،یہ سمجھ نہیں آیا یہ کس دنیا میں رہتے ہیں۔

 24 نیوز کے پروگرام ’’ سلیم بخاری شو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گنڈا پور کو نکالنے کی باتیں آج سے نہیں ہورہیں جو لڑائی ان کی علیمہ خان سےتھی وہ تو سب کے سامنے ہے لگتا تو تھا کہ یہ ایک دن ہوکر رہے گا،خاص طور پر   جو پارٹی کے اندرسے مختلف اوقات میں لوگوں نے کہا کہ گنڈا پور  کی چھٹی ہو رہی ہے گنڈا پور بھی دفاع کرتے رہے اوراسی طرح پوری کی پوری پارٹی کی قیادت تردید کرنے میں لگی ہوئی تھی لیکن جو اہم بات ہے وہ یہ کہ گنڈا پور ایک پوسٹر بوائے تھا  جس کا اپنا بہت بڑا امیج ہے ۔

سلیم بخاری کا کہنا تھا کہ یہ جو مزاحمت کی تحریک جو  بانی کے جیل جانے کی وجہ سے چل رہی ہےاس میں گنڈا پور کی کوشش کو نکال دیں تو کچھ نہیں بچتا اور اپنی شخصیت کی وجہ سے پارٹی کو کنٹرول میں رکھا ہو ا تھا اب جب وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے تو دیکھیں گے کہ کیسے جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔

گنڈا پور کو کیوں نکالا؟

اس سوال  کے جواب میں سلیم بخاری نے کہا  سلمان اکرم راجہ آج سے پہلے تک گنڈا پور کا دفاع کرتے نہیں تھکتے تھے لیکن آج ان کا سار ا استدال اس پر تھا کیوں  کہ وہ بانی کی پالیسیز پر عمل درامد کرانےمیں ناکام ہو گئے ہیں اس لیے ہم ان کو فارغ کر رہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں یہ موقف رہا ہے کہ وفاقی حکومت کا جو طریقہ کار یا پالیسی اپنائی ہوئی ہے وہ بالکل غلط ہے اور خیبرپختونخوا حکومت خود کو اس پالیسی سے دور کرے، یہ پالیسی جنگ وجدل کی پالیسی ہے۔

 گنڈا پور وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کے ماہر تھے؛

 اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہا جارہا ہے کہ علی امین صاحب جرات پیدا کریں اور اب یہ بتا دیں کہ یہ وکٹ کے کس طرف والوں کا کام ہے،انہوں نے کہا کہ علی امین وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں،وہ ورکرز کو چھوڑ کر بھاگے اور خود ساختہ روپوشی اختیار کی،ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور پہلے گنڈاپور کے گھر والوں کو انصاف دیں،انہوں نےاپنا صوبہ  دہشت گردوں کے حوالہ کردیا ہے۔

نئے وزیر اعلیٰ کے پی چیلنجز کا سامنا کر پائیں گے؟

اس سوال کے جواب انہوں  نے کہا کہ سہیل افرید ی کے لیے بہت برے چیلنج ہیں سب سے پہلا چیلنج تو دہشتگردی کے خلاف جو اپریشن ہو رہا ہے وہ اس کو  کیسے روک سکتے ہیں جو گنڈاپور نہیں روک پائے کیا وہ پارٹی کی اند ر سیاست پر قابو پاسکیں گے، کیاو ہ جنید اکبر کے سامنےٹک پائیں گے،بیشک جنید اکبر کی مخاصمت  گنڈا پور سے تھی لیکن وہ تو خود کے پی کی وزارت اعلیٰ کے امیدوار تھے،اب جو بیچارے سہیل آفریدی  ہیں ان کے لیے مصیبتوں کے بہت بڑے بڑے پہاڑ کھڑے ہیں۔

ابھی تو پارٹی کی طرف سے رد عمل انا ہے گنڈا پور ایک عام ادمی نہیں ہے کہ جس کو اپ ایک  طرف اٹھا کر رکھ دیں گے اور کسی کے کان پر جون نہین رینگے گی ایسا بلکل بہی نہیں ہے،گنڈا پور کے پی میں ایک انتہائی اہم ادمی ہیں ان کا اپنا ووٹ بینک ہے،وہ اپنے بل پر یہاں تک پہنچا تھا۔

 کورکمانڈرزکانفرنس موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ملکی سالمیت کا دفاع کرنا ہو اور بڑے بڑے ٹارگٹ اچیو کرنے ہوں تو قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں،اس لحاظ سے اپنی آرمڈ فورسز اور لاء فورسز کو خراج تحسین ضرور پیش کیا جانا چاہیے،کورکمانڈرزکانفرنس نے دہشتگردی کے خلاف آپریشنز، اُبھرتےخطرات اور آپریشنل تیاریوں کا جامع جائزہ لیا گیا اور فورم نے کہاکہ پاک فوج ملکی دشمنوں کے تمام مذموم عزائم کوہرمیدان میں ناکام بنانے کےلیےہمہ وقت تیار رہنے  کےلیے قوم شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کےنیٹ ورکس مکمل ختم کیےجائیں گے، "فتنہ الخوارج" اور "فتنہ الہندوستان" کے نیٹ ورکس مکمل ختم کیےجائیں گے، اس کے لیے جامع انسداد دہشت گردی کارروائیاں جاری رکھی جائیں ،انہوں نےکورکمانڈر کانفرنس کے شرکا  اور  پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں کو سراہااور علاقائی اورعالمی امن کے لیے عزم کو سراہا۔

یہ بھی پڑھیں:  زیرِ حراست ملزموں کے میڈیا انٹرویوز پر پابندی, ایک تاریخی فیصلہ