علی امین گنڈاپور کے اہم انکشافات، خٹک سے ملاقات ،مائنس بانی پی ٹی آئی سے متعلق بڑا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک )سابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ختم ہونے سے 10 دن پہلے خٹک صاحب کی کال آئی کہ آئیں ملتے ہیں۔
ایک انٹریو کے دوران علی امین گنڈا پور نے کہا کہ اسپیکر کے گھر کے سامنے چھوٹے پارک میں خٹک صاحب سے ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نہیں مان رہے آپ انہیں مناؤ، خٹک نے بتایا کہ باجوہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ ایکسٹینشن دے دو ان کو این آر ے دو پھر سب ٹھیک ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مولانا صاحب کا جب دھرنا ختم ہوا تو اس شام کو مولانا صاحب اور باجوہ صاحب کی میٹنگ ہوئی تھی، نومبر 2020 میں مائنس بانی پی ٹی آئی پر کام شروع ہوگیا تھا اور یہ بات کچھ لوگ جانتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کے مرکزی بینک سونا کیوں جمع کررہے ہیں؟
علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ٹوئٹر اکاؤنت بیرون ملک چل رہا ہے اسے چلانے والے جو چاہتے ہیں اپنی مرضی سے کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے والوں کو یہاں سے بھی ڈکٹیٹ کیا جاتا ہے، ٹوئٹر اکاؤنٹ چلانے والوں کو جس کے لیے لکھنا ہوتا ہے لکھ دیتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں علی امین نے کہا کہ مولانا صاحب سے یہی کہا تھا کہ حق پر آجائیں اور مخصوص نشستیں چھوڑ دیں، ان کے ساتھ میرا سیز فائر پہلے سے ہی ہے، مولانا اس تحریک پر ہمارے ساتھ آنے کو تیار ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے نکالے جانے کے پیچھے چھپے محرکات سے پردہ اٹھا دیا۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی پر سب سے زیادہ مشکل وقت آیا، ایسے میں شیر افضل مروت گراؤنڈ پر آئے اور انہوں نے ہر ضلع میں مہم چلائی، ان کی وجہ سے ورکرز کا جوش بڑھا، وہ مہم چلانے سندھ اور بلوچستان گئے لیکن جب پنجاب گئے تو انہیں وہاں گرفتار کر لیا گیا۔
ہر انسان سے غلطی ہوتی ہے اگر شیر افضل مروت نے کوئی بات کہہ دی ہے تو کیا ہوگیا؟ ذاتی مفاد کیلیے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان جیسے لوگوں کو ہٹایا گیا، ان کو ہٹانے سے کیا عمران خان کی مشکلات کم ہوگئیں؟ بلکہ بانی پی ٹی آئی بے گناہ جیل میں ہیں انہیں سزا دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شیر افضل مروت کے ساتھ پہلے پارٹی نے زیادتی کی اور پھر ہماری حکومت نے، ان کے حلقے کے فنڈز کے معاملات تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ 27 ستمبر کیلیے پارٹی کو میرے بجائے شیر افضل مروت جیسے شخص سے رابطہ کرنا چاہیے، عمران خان نے ان کو پارٹی سے ضرور نکالا ہوگا، ان کو کوئی عہدہ نہ دیں لیکن ذمہ داری دینی چاہیے، مجھے بانی پی ٹی آئی کیلیے کسی کو منانے کی ضرورت نہیں، وہ ان سے زیادہ میرے ساتھ ہیں وقت آنے پر سب کو نظر آ جائے گا۔