ماسٹرغلام حیدر :فلمی موسیقی میں انقلاب برپاکرنےوالے مایہ نازموسیقار

لتا منگیشکر کو بطور پلے بیک گلوکارہ متعارف کرانے کا سہر ا بھی ان کے سرتھا جس کا اعتراف خودلتانےکئی بارکیا

Nov 09, 2025 | 11:18:AM
ماسٹرغلام حیدر :فلمی موسیقی میں انقلاب برپاکرنےوالے مایہ نازموسیقار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)فلمی موسیقی کونیارنگ دینے والے نامورموسیقارماسٹرغلام حیدرکو دنیا سے رخصت ہوئے72برس بیت گئے،وہ 9نومبر1953کوراہی ملک عدم ہوگئے تھے مگران کے کمپوز کئے ہو ئےگانےآج  بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتے ہیں اور ان کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔        
 ماسٹر غلام حیدر 1906کو امرتسر کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے،ہوش سنبھالتے ہی اپنے آپ کو موسیقی اور راگ رنگ میں ماحول میں پایا,ہار مونیم بجانے کا بڑا شوق تھااسی شوق کی وجہ سے انہیں ہارمونیم پر مکمل عبور حاصل تھا,اس کے ساتھ وہ  زیادہ تر وقت سازوں کی ریاضت میں بھی گزارنے تھے، دراصل ان کے اندر ایک منفرد موسیقار انگڑئیاں لے رہا تھا،موسیقی پر مکمل دسترس رکھنے کے علاوہ وہ شاعری کے رموز و اسرار سے بھی سیر حاصل واقفیت رکھتے تھے اور یہ صلاحیت انہیں اچھے گیت لکھوانے اور اچھے گیت منتحب کرنے میں بڑی مدد گار ثابت ہوتی تھی۔
 گھر گرہستی چلانے کےلئے ماسٹرغلام حیدر کو حیدر آباد سندھ جانا پڑا اور وہاں معروف دندان ساز کے ہاں ملازمت کرلی,اگرچہ یہ پیشہ ان کے مزاج کے بالکل برعکس تھا,بہرحال مجبوری تھی جس کے تحت کچھ عرصہ یہی ذریعہ معاش اپنائے رکھا مگر اند ر چھپا ہوا فن موسیقی کب چین لینے دیتا تھا,آخر اپنی اس نوکری کو خیر باد کہا،ہارمنیم بجانے کے ماہر تو تھے ہی ایک تھیٹر کمپنی میں ملازمت مل گئی ,پھرایک گراموفون کمپنی سے وابستہ ہو گئے اور ریکارڈوں کی طرزیں موزوں کرتے رہے اور چند ایک ایسی طرزیں موزوں کیں جو عوام و خواص میں بہت مقبول ہوئیں خاص کر شمشاد بیگم کی آواز میں گائی گئی ہوئی نعت ”پیغام صبا لائی ہے دربار نبیؐ سے“ آج بھی سننے والو ں کا دل موہ لیتی ہے،اس کے علاوہ ”اک بار پھر کہو ذرا یہ میر ی ساری کائنات تیری اک نگاہ پہ نثار ہے“زبان زدعام ہوئی اور سارے ہندوستان میں پسند کی گئیں۔
ماسٹرغلام حیدر نے دو شادیاں کی تھیں،پہلی بیوی سے ان کی اولاد میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل تھے ،بڑے بیٹے ضمیر حیدر پاکستان ٹیلی ویژن سے وابستہ رہے ،ٹی وی کے اکثر پروگراموں میں موسیقی ترتیب دیا کرتے تھے،ان کے دوسرے بیٹے پرویز حیدر نے بھی اپنے باپ کا نام زندہ رکھنے کے لئے بڑا کام کیا ہے،نامور پلے بیک سنگرمنیرحسین ماسٹرغلام حیدر کے دامادتھے جنہوں نے اپنی فیلڈ میں بڑا نام کمایا،نورجہاں کے ساتھ ان کا گایا ہوا فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کا گانا”ونجلی والڑیا تُو تاں موہ لئی اومٹیار“ ان کی خاص پہچان  رہا۔
ماسٹر غلام حیدر نے سب سے پہلے امتیاز علی تاج کی فلم ”سورگ سیڑھی“ کا میوزک دیا ،یہ فلم لاہور میں بننے والی ابتدائی فلموں میں سے ایک تھی جو کامیابی حاصل نہ کر سکی، جب لاہور میں سیٹھ دل سکھ پنچولی نے فلم ساری کا آغاز کیا تو اپنی پنجابی فلم ”گل بکاؤلی“ کے میوزک کے لئے ماسٹر غلام حیدر کا انتخاب کیا،اسی فلم سے ملکہ ترنم نورجہاں نے، جو اس وقت بے بی نورجہاں کے نام سے جانی جاتی تھیں،اپنی فلمی دنیا کے سفر کاآغاز کیا اسی فلم میں نورجہاں کاگایاہواگانا ”شالا جوانیاں مانے“ اس قدر مقبول ہوا کہ اس کے گراموفون ریکارڈ ہاتھوں ہاتھ فروخت ہونے لگے،حقیقی معنوں میں اسی فلم سے ماسٹر جی کا عروج شروع ہوا جس کے ساتھ ہی ان کی شہرت طول و عرض میں پھیل گئی۔
پنچولی پکچرز کی فلم ”یملا جٹ“ ماسٹر جی کی دوسری پنجابی فلم تھی جس کے گانوں نے دہلی سے پشاور تک دھوم مچائی اور ماسٹر جی کو ہندوستان کے طول و عر ض میں متعارف کروایا،اس کے بعد فلم ”خزانچی“ کے دو گانے ”ساون کے نظارے ہیں“ اور ”لوٹ گئی پاپن اندھیاری“ اپنی دلکش اور منفرد طرزوں کی وجہ سے بے حد مقبول ہوئے تھے۔
خزانچی کے بعد پنجابی فلم چودھری اور اردو فلم خاندان جن میں نورجہاں نے ہیرؤئن کا کردار ادا کیا تھا کے گانے بہت مشہور ہوئے۔


اسی دوران ماسٹر جی کے دل میں یہ شوق پیدا ہوا کہ وہ برصغیر کے اہم فلمی مرکز بمبئی جا کر اپنے فن اور اپنے نام کو اور آگے بڑھائیں،وہاں کے نامور فلمساز اور ہدایتکار محبوب کا آدمی فلم ہمایوں کے میوزک کے لئے پیشکش لے کرلاہور آیاجو انہوں نے بخوشی قبول کر لی،بمبئی جا کر ماسٹر جی فلم ہمایوں کی موسیقی ترتیب دینے میں مصروف ہو گئے، ایک دن ان کے دیرینہ دوست نے بتایا کہ فلمساز رائے بہادر چونی لال اپنی نئی فلم ”چل چل رے نوجوان“ شروع کر رہے ہیں جس کی کاسٹ میں اشوک کمار اور نسیم شامل ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ ماسٹر غلام حیدر اس فلم کا میوزک دیں،اسی دوران فلمساز کے آصف نے بھی اپنی فلم”پھول“ کے میوزک کے لئے ماسٹر جی کا چناؤ کیاجس کا معاہدہ پچیس ہزار روپیہ میں طے ہوا اتنی بڑی رقم کے معاہدے نے فلمی دنیا میں دھوم مچا دی کیونکہ اُس وقت تک اتنا بڑا معاوضہ کسی موسیقار کو نہیں ملا تھا ۔


یکے بعد دیگرے کئی فلموں کے معاہدے کرنے کے بعد ماسٹر جی بمبئی کے مصروف ترین موسیقاروں میں شامل ہوگئے،بمبئی میں قیام کے دوران انہوں نے بہت سی فلموں میں موسیقی دی جن میں ایم صادق کی فلم ”جگ بیتی“ کارواں فلمز کی ”کنیز“جاگیردار فلمز کی ”بیرم خاں“فلمستان پکچرز کی”شہید“ولی صاحب کی ”پدمنی“بمبئی ٹاکیز کی”مجبور“ اور شمع قابل ذکر ہیں اور ان فلموں کے لئے جن گلوکاروں کی آوازوں میں نغمات ریکارڈ کروائے ان میں شمشاد بیگم،گیتا رائے،راج کماری،کشور کمار،محمد رفیع اور لتا منگیشکر شامل ہیں۔ 


لتا منگیشکر کو بطور پلے بیک سنگر متعارف کرانے کا سہر ا بھی ماسٹر جی کے سر ہے جس کا اعتراف انہوں نے خود بھی کئی بارکیاتھا،یہ بھی ایک دلچسپ قصہ ہے، ماسٹر جی فلم کا میوزک دے رہے تھے اس کے ایک کورس کی ریہرسل کے دوران گانے والی لڑکیوں میں ایک ایسی لڑکی نظر آئی جسے ان کی جوہر شناس نظروں نے فوراََ جانچ لیا کہ اس لڑکی کے گلے میں بلا کا سُر ہے ،انہیں اس لڑکی لتاکی آواز نے بے حد متاثر کیا۔بمبئی ٹاکیز کی فلم مجبور کے میوزک کے لئے جب ماسٹر جی سے معاہدہ ہوا تو ماسٹر جی نے پلے بیک گانے کے لئے لتا کو منتحب کر لیااور اس سے ناظم پانی پتی کے لکھے ہوئے ایک گانے کی ریہرسل بھی شروع کرا دی مگر فلم کے پروڈیوسر اشوک کمار اور ساوک واچاجو نے اس انتخاب کو رد کر دیا، اُن کا اعتراض تھا کہ لتا نئی لڑکی ہے جس کی باریک آواز بھی فلم کی ہیرؤئن منور سلطانہ سے مختلف ہے،ماسٹر جی کو ان کی یہ بات بڑی ناگوار گزری اور انہوں نے پروڈیوسرز کو صاف کہہ دیا اس فلم کے گانے لتا ہی گائے گی اگر آپ کو میرا انتخاب درست نہیں لگتا تو کسی دوسرے میوزک ڈائریکٹر سے رجوع کر لیں ،یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر آ گئے اس کے بعد انہوں نے بمبئی ٹاکیز کے نام کا دس ہزار روپے کا چیک کاٹا، یہ رقم وہ ایڈوانس کے طور پر وصول کر چکے تھے چیک لے کر وہ پروڈیوسرز کے پاس گئے اورکہا کہ اپنے  ایڈوانس کی رقم واپس لے لیں جس پر وہ ہنس کرکہنے لگے ماسٹر جی آپ تو ضد کر بیٹھے ہیں، ناراض نہ ہوں بے شک سارے گانے لتا سے کروالیں ہمیں منظور ہے ۔
اس طرح ماسٹر غلام حیدر کی مہربانی اور ضد کی وجہ سے لتا کے فلمی کیرئیر کا آغاز ہوا یوں وہ لتا سے لتا منگیشکر بن گئیں ۔