فیفا ورلڈ کپ؛ ایرانی ٹیم میں پاسداران انقلاب کے سابق اہلکار بھی ہوں گے، ایران کا ویزے دینے کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایران نے فیفا ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم میں پاسداران انقلاب کے سابق ارکان کو بھی بھیجنے کا عندیہ دیا ہے اور امریکہ ، کینیڈا، میکسیکو سے ان تمام کھلاڑیوں کو ویزا دینے کا مطالبہ کیا ہے جو پاسداران انقلاب کے اہلکار رہ چکے ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم بھیجنے کے لئے ایران نے امریکہ اور دوسرے دو میزبان ملکوں سے اپنے ان کھلاڑیوں کے لیے ویزا مسائل نہ ہونے کی یقین دہانی مانگی ہے جن کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے رہا ہے۔
2026ء کا فیفا ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی 2026ء تک شمالی امریکہ کے تین ممالک—امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو—کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دنیا کی 48 ٹیمیں اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی ہیں۔ فیفا ورلڈ کپ کے تمام میچ ان تینوں ممالک کے 16 شہروں میں کھیلے جائیں گے۔
ایران کی شرکت اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے متعلق صورتحال
ایران نے 2026ء کے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کر رکھاہے لیکن اس کی ٹیم کی فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے امریکہ آمد کا معاملہ کئی ہفتوں سے تنازعات کا شکار ہے۔ پہلے ایران نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کی ٹیم کے تمام میچ امریکہ سے باہر (میکسیکو میں) رکھے جائیں تب وہ ٹیم بھیجے گا۔ اس مطالبہ کو فیفا نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ایران کے تمام میچ شیڈول کے مطابق طے شدہ امریکی شہروں میں ہی ہوں گے۔ اس کے بعد ایران نے اپنے کھلاڑیوں کی سکیورٹی کے حوالے سے ضمانتیں مانگیں اور اب یہ انکشاف کیا ہے کہ وہ جو ٹیم بھیجنا چاہتا ہے اس میں پاسداران انقلاب کے سابق ارکان شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چالیس ملکوں کا آبنائے ہرمز مشن؛ انگلینڈ سب سے بہلے جنگی بحری جہاز بھیجےگا
امریکہ اور کینڈا دونوں نے پاسداران انقلاب کو کئی سال سے دہشتگر تنظیم قرار دے رکھا ہے اور پاسداران پر سخت نوعیت کی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور حالیہ سیاسی تنازعات کے باعث ٹیم کی شرکت سے متعلق خدشات پیدا ہوئے تھے لیکن اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایران ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا۔
ایران کی شرائط
اب سامنے آنے والی شرائط میں ایران کے فٹ بال حکام نے مطالبہ کیا ہے کہ میزبان ممالک (امریکہ اور کینیڈا) ان کے قومی پرچم، ترانے، اور ایران کی فوجی اور سیاسی علامتوں، جن میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) شامل ہے، کا احترام کریں۔
ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے کہا کہ ایران نے میزبان ممالک کے سامنے 10 شرائط رکھی ہیں جن میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کو بغیر رکاوٹ ویزے جاری کرنا، قومی پرچم اور ترانے کا احترام اور ٹیم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا شامل ہے۔ اب ایران چاہتا ہے کہ پاسداران انقلاب کے سابق ارکان کو ویزے دینے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
پاسداران کے سابق ارکان کی ایرانی ٹیم میں موجودگی
ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ٹیم اور وفد کے ساتھ کسی بھی سمجھوتے کے بغیر شرکت کرے گا۔ایران نے خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے لیے ویزا مسائل نہ ہونے کی یقین دہانی مانگی ہے جن کا تعلق ماضی میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے رہا ہے جن میں مہدی تریمی اور احسان کے نام بھی شامل ہیں۔
امریکہ، کینیڈا کیلئے پیچیدہ صورتحال
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو فیفا ورلڈ کپ کے میزبان کی حیثیت سے تمام 48 ٹیموں کو اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق کھیلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن اب امریکہ اور کینیڈا کے لئے یہ پیچدہ سورتحال ہے کہ وہ پاسداران انقلاب پر کئی سال سے سخت پابندیاں لگائے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ورلڈ کپ میں ٹیمیں بھیجنے والے کئی دوسرے ملکوں نے بھی پاسداران پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔
ہیں:
امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں
امریکہ نے پاسدارانِ انقلاب کو دنیا کی سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار تنظیموں میں سے ایک بنا دیا ہے: اپریل 2019 میں امریکہ نے IRGC کو ایک "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم" (FTO) قرار دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ امریکہ نے کسی دوسرے ملک کی سرکاری فوج کے ایک حصے کو دہشت گرد قرار دیا ہو۔
پاسدارانِ انقلاب، اس کی ذیلی شاخ قدس فورس، اور ان سے وابستہ سینکڑوں کمپنیوں اور افراد کے اثاثے امریکہ میں منجمد ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ'لاپرواہ فوجی مہم جوئی' کر رہا ہے، ایران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا ، عباس عراقچی
کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کے لیے پاسدارانِ انقلاب یا ان کی ملکیتی کمپنیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین کرنا سختی سے ممنوع اور مجرمانہ فعل ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ارکان اور سابقہ اہلکاروں کے امریکہ میں داخلے پر سخت پابندیاں ہیں، پابندیوں کی اس شق کا براہ راست کا اثر حالیہ فیفا ورلڈ کپ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ ان غیر ملکی کمپنیوں یا ممالک پر بھی پابندیاں لگا سکتا ہے جو IRGC کے ساتھ اہم تجارتی تعلقات رکھتے ہیں۔
کینیڈا، یورپی یونین، دیگر ممالک کی پابندیاں
حالیہ برسوں میں، خاص طور پر 2025 اور 2026 کے دوران، کئی دوسرے ممالک اور عالمی بلاکس نے بھی پاسدارانِ انقلاب پر پابندیاں سخت کی ہیں۔
یورپی یونین (EU) کے ایک تاریخی فیصلے میں، یورپی یونین کے 27 رکن ممالک نے جنوری 2026 میں پاسدارانِ انقلاب کو باقاعدہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اپنی واچ لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔ اس سے قبل یورپی یونین نے ان کے ڈرون اور میزائل پروگراموں پر پہلے ہی پابندیاں لگا رکھی تھیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے شریک میزبان کینیڈا نے 2024 میں پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا اور اس کے ہزاروں سینیئر حکام کے کینیڈا داخلے پر تاحیات پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ واضح نہیں کہ پاسداران کے سابق ارکان کے متعلق کینیڈا کی پابندیوں کا اطلاق ہو گا یا نہیں۔
آسٹریلیا نے فروری 2026 میں پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ سینیئر حکام اور مالیاتی نیٹ ورکس پر مزید نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں سے سعودی عرب اور بحرین نے پاسدارانِ انقلاب اور اس کی قدس فورس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: پنجاب کی طاقتور ترین خواتین; " سٹرونگیسٹ وومین (را) پاور لفٹنگ چیمپئن شپ" 10 مئی کوہو گی
دیگر ممالک میں ارجنٹائن، ایکواڈور، پیراگوئے، یوکرین، اور اسرائیل نے بھی IRGC یا اس کی ذیلی شاخوں پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی ہیں۔ حال ہی میں (مارچ 2026) آئس لینڈ، مالدووا، مونٹی نیگرو اور بوسنیا و ہرزیگووینا جیسے ممالک نے بھی اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔
ان پابندیوں کا بنیادی مقصد پاسدارانِ انقلاب کی مالیاتی آمدنی کے ذرائع کو روکنا اورخاص طور پر ان کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے پیشِ نظر ان کی بین الاقوامی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے، البتہ یہ واضح نہیں کہ پابندیاں لگانے والے ممالک میں سے جن کی فٹ بال ٹیمیں فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے کوالیفائی کر چکی ہیں، وہ ایران کے ساتھ میچ کی سورت میں پقاسداران کے سابق ارکان کے ساتھ اپنے کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت دیں گے یا نہیں۔
امریکہ کا مؤقف
اس تناظر میں امریکہ نے فیفا کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایرانی فٹ بال ٹیم کو تو خوش آمدید کہے گا، لیکن پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ روابط رکھنے والے کسی بھی شخص کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ امریکہ IRGC کو ایک "دہشت گرد تنظیم" قرار دیتا ہے۔
خلاصہ: ایران ورلڈ کپ میں کھیلنے کی تصدیق کر چکا ہے اور امریکہ ایرانی تیم کو خوش آمدید کہنے کا اعلان کر چکا ہے لیکن تنازعہ اب بھی برقرار ہے۔
ایران کو گروپ جی میں نیوزی لینڈ، بیلجیئم اور مصر کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ شیڈول کے مطابق ایران کی ٹیم کا پہلا میچ 15 جون کو لاس اینجلس میں ہونا ہے۔
