کمیلا ہیرس نے صدر ٹرمپ کی ایران میں زیادہ شدید جنگ کی دھمکی کو "بل شِٹ" قرار دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) سابق نائب صدر اور سابق صدارتی امیدوار کمیلا ہیرس نے صدر ٹرمپ کی ایران میں زیادہ شدید جنگ کی دھمکی کو "بل شِٹ" قرار دے دیا۔ ان کی اس گفتگو کو ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔
سابق نائب صدر صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کی مخالف امیدوار کملا ہیریس نے نیواڈا ڈیموکریٹس کے زیر اہتمام ایک تقریب لاس ویگاس میں "فائر سائیڈ چیٹ" میں، ہجوم سے مخاطب ہوتے ہوئے ڈرامائی اشارے کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں جنگ "بل شٹ" ہے۔ جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اس اجتماع میں حامیوں نے قہقہے لگائے تو کمیلا ہیرس نے خود بھی ان کے ساتھ مل کر قہقہے لگائے۔
کمیلا ہیرس نے کہا، جب ہم ایران کی جنگ کی طرف دیکھتے ہیں جسے امریکہ کے عوام نہیں چاہتے اور جس کی کانگرس نے بھی منطوری نہیں دی ہے، حتیٰ کہ اگر اسے منطوری ملی ہوتی تب بھی یہ نہیں ہونا چاہئے تھی۔
کمیلا ہیرس نے کہا، میں ٹرمپ کو ایڈیٹ ہونے کی بنیاد پر ڈس مس نہیں کروں گی، وہ خطرناک ہے۔
سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا، کمیلا ہیرس کے ایران جنگ کے متعلق ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں امریکی تباہ کن جہازوں پر حملوں کے بعد "جلد" معاہدے پر دستخط کرے۔
یہ بھی پڑھیئے: چالیس ملکوں کا آبنائے ہرمز مشن؛ انگلینڈ سب سے بہلے جنگی بحری جہاز بھیجےگا
یہ یاد کرنا دلچسپ ہے کہ صدارتی انتخابی مہم کے دوران جب صدر ٹرمپ زیادہ تر چین کے ساتھ مستقبل میں امریکہ کے مفادات کے تحفظ کے لئے اہم اقدامات کرنے کی باتیں کر رہے تھے اور ایران کے متعلق ایک لفظ بھی نہین بولتے تھے تو اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کمیلا پارکر نے زور دے کر یہ کہا کہ ایران امریکہ کا اصل مسئلہ ہے اور وہ صدر بنیں تو چین کو دشمن سمجھے کی بجائے ، ایران پر توجہ دیں گی۔ کمیلا ہیرس نے انتخابی مہم میں زور دے کر کہا تھا کہ وہ چین کو سب سے بڑا مسئلہ نہیں سمجھتیں بلکہ امریکہ کو ایران پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
کمیلا ایک بار پھر صدارتی الیکشن لڑنے کیلئے تیار
کمیلا ہیرس آئندہ صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بننے کے لئے بھی سنجیدگی سے کوشش کر رہی ہیں۔ اس سے پہلے سابق خاتون اول ہیلری کلنٹن بھی ایک صدارتی انتخاب کے لئے امیدوار بننے کی کوشش میں ناکام ہونے کے بعد آٹھ سال بعد دوسری کوشش کر کے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار بننے مین کامیاب ہو گئی تھیں۔ لیکن ہیلری کو الیکشن میں ٹرمپ سے بری طرح شکست ہوئی تھی۔ کمیلا کے گزشتہ صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار بن جانے میں آسانی ہوئی تھی کیونکہ اس وقت وہ امریکہ کی نائب صدر تھیں اور صدر جو بائیڈن دوسری مرتبہ الیکشن لڑنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ'لاپرواہ فوجی مہم جوئی' کر رہا ہے، ایران امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا ، عباس عراقچی