مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کی 57ویں برسی آج منائی جارہی ہے

 گھر سے میدان سیاست تک قائداعظم محمدعلی جناح کے قریبی ساتھی اور مشیر کا کردار نبھایا

Jul 09, 2025 | 12:43:PM
مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کی 57ویں برسی آج منائی جارہی ہے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)بانی پاکستان کی بہن مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کو بچھڑے 57 برس بیت گئے۔
مادر ملت  تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے بعد بھی بھائی کے شانہ بشانہ رہیں،انہوں نے گھر سے میدان سیاست تک قائداعظم محمدعلی جناح کے قریبی ساتھی اور مشیر کا کردار نبھایا،وہ بانی پاکستان کی دست راست اورسب سے قابل اعتماد ساتھی تھیں۔
31 جولائی 1893 کو کاٹھیاواڑ میں پیدا ہونے والی فاطمہ جناح نہ صرف بانی پاکستان محمد علی جناح کی بہن تھیںبلکہ وہ خود بھی ایک بیدار ، تعلیم یافتہ، اور بے باک سیاسی شخصیت تھیں، قوم نے انہیں’’مادرِ ملت‘‘ کے باوقار لقب سے نوازاہے۔
1923  میں کلکتہ یونیورسٹی سے ڈینٹسٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ برصغیر کی پہلی خاتون دندان ساز بنیں اورممبئی میں دانتوں کا کلینک کھول لیا،تاہم قائد اعظم کی اہلیہ رتن بائی کی 1929 میں موت کے بعد فاطمہ جناح نے اپنا کلینک بند کرکے اپنے بھائی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی محمد علی جناح کی قریبی ساتھی اور مشیر تھیں،قائداعظم کے ہربیان اورہر مسودے میں ان کی مشاورت شامل ہوتی تھی۔
انہوں نے قیام پاکستان کے بعد بھی سیاسی خدمات جاری رکھیں،وہ قائد حزب اختلاف اور صدارتی انتخاب میں امیدوار بھی رہیں،قدرتی آفات کے مواقع پر بھی ملک بھر کے دورے کیے اور عوام کی دلجوئی کی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ کابینہ نے پنشن اصلاحات کی منظوری دے دی
فاطمہ جناح نے خواتین کے لیے تعلیم نسواں اور تعلیم بالغاں کے مراکز بھی قائم کیے،نونہالوں پر توجہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی اپیل پر نیشنل کمیٹی کی صدر بنیں،تقسیمِ ہند اور اقتدار کی منتقلی کے دوران فاطمہ جناح نے خواتین کی امدادی کمیٹی بنائی جس نے بعد میں آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا) کی شکل اختیار کرلی۔
قوم کے اتحاد کی علامت محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 کو کراچی میں اپنے ذاتی گھر موہٹہ پیلس میں انتقال کر گئی تھیں،انہیں مزار قائد کے احاطے میں سپرد خاک کیا گیاتھا۔