واٹس ایپ صارفین خبردار،مشکوک پیغامات سے بینکنگ ڈیٹا چوری ہونے کا خطرہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)ٹیکنالوجی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سائبر مجرم واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے نیا بینکنگ مالویئر پھیلا رہے ہیں، جو صارفین کے اکاؤنٹس اور مالیاتی معلومات کو ہدف بنا رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ مالویئر پہلے ہی بڑے پیمانے پر فعال ہے اور صارفین کے معروف میسجنگ پلیٹ فارمز کا غلط فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یہ مہم متاثرہ واٹس ایپ اکاؤنٹس سے خودکار پیغامات اور لنکس بھیجتی ہے، جو صارف کے سسٹم میں مالویئر انسٹال کر دیتے ہیں.
سائبر سکیورٹی کمپنیوں کے مطابق مالویئر عام فائل یا دستاویز کی شکل میں آتا ہے اور صارف کے کلک کرنے پر فعال ہوتا ہے۔
جس سے اینٹی وائرس سافٹ ویئر اکثر اسے بروقت شناخت نہیں کر پاتا۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ مالویئر ونڈوز سسٹمز میں متعدد لوڈرز کے ذریعے فعال ہوتا ہے اور پاور شیل اور دیگر اسکرپٹنگ ٹولز استعمال کرتا ہے۔
تاکہ سسٹم کی حفاظت کرنے والے سافٹ ویئر کو چکمہ دے سکے۔
مزید پڑھیں:پاکستان سٹاک ایکسچینج ، پہلے سیشن کا مندی پر اختتام
اس کے علاوہ یہ اپنے مرکزی اجزاء کو انکرپٹڈ اسٹنگز کے ذریعے چھپاتا ہے اور سسٹم کے ماحول کا جائزہ لینے کے بعد ہی کارروائی شروع کرتا ہے۔
مالویئر اپنے آپ کو شیڈول شدہ ٹاسک یا رجسٹری اندراجات کے ذریعے مستقل بناتا ہے اور پھر صارفین کی بینکنگ معلومات تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
یہ مہم کم از کم 24 ستمبر 2025 سے فعال ہے اور زپ آرکائیو، پاور شیل یا پائتھن اسکرپٹس کے ذریعے ڈیٹا چوری کرتی ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر معروف لنکس یا فائلز پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
انہوں نے کہا ہے کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے مضبوط پاس ورڈ اور دوہری تصدیق کا استعمال یقینی بنائیں۔
یہ واقعہ صارفین کے لیے انتہائی خطرناک تصور کیا جا رہا ہے اور حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ آن لائن حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے۔