چترال کی زمینیں کس کی ملکیت؟ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ملک رحمان) چترال کی مقامی زمینیں ریاست پاکستان کی ملکیت ہونے کے خلاف مشہور کیس کے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلہ کو خیبر پختونخوا کی حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا۔
خیبرپختونخوا حکومت نے وفاقی آئینی عدالت میں ایک پیٹیشن دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔
خیبر پختون خوا کی عدالتِ عالیہ نے 1975 کے نوٹیفیکیشن کے تحت ان زمینوں کو ریاست پاکستان کی ملکیت قرار دیا تھا۔
پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ میں قرار دیا کہ اگر چترال کے مقامی افراد کے پاس کسی زمین کی ملکیت کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں تو وہ سول کورٹ میں رجوع کر سکتے ہیں۔ اور سول کورٹ طریقہ کار کے مطابق ان کے مقدمات کی سماعت کر کے حقیقی مالکان کے حق میں فیصلہ دے سکتی ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے فیصلہ میں قرار دیا گیا کہ 1975 کے نوٹیفیکیشن کے تحت تمام پہاڑ، جنگل، چراگاہیں، شکارگاہیں اور بنجر زمینیں ریاست کی ملکیت میں شامل ہیں۔ تاہم متنازعہ زمینوں کے لیے انکوائری کمیشن نے حکومت اور مقامی افراد کے درمیان ملکیت کا تعین کرنا تھا۔
1975میں یہ نوٹیفیکیشن پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چئیرمین، سابق وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران صوبائی حکومت نے جاری کیا تھا۔
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیا ہے؟
چترال کی زمینوں کی ملکیت کے حوالے سے پشاور ہائی کورٹ نے نومبر 2025 میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے، جس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
عدالتِ عالیہ نے 1975 کا نوٹیفکیشن اور سرکاری ملکیت: عدالت نے 1974 کے 'ڈسٹری بیوشن آف پراپرٹی ریگولیشن' کے تحت جاری ہونے والے 1975 کے اس متنازع نوٹیفکیشن کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے سے انکار کر دیا جس کے تحت چترال کے پہاڑوں، بنجر زمینوں، چراگاہوں اور ندی نالوں کو سرکاری ملکیت قرار دیا گیا تھا۔
نوٹیفیکیشن حتمی کے بجائے 'قابلِ تردید' (Rebuttable)
عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں یہ اہم وضاحت کی کہ یہ نوٹیفکیشن 'حتمی' (Irrebuttable) نہیں ہے بلکہ 'قابلِ تردید' (Rebuttable) ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مقامی فرد یا خاندان اپنی زمین کے دستاویزی ثبوت یا قبضے کے شواہد رکھتا ہے، تو وہ اس نوٹیفکیشن کے باوجود اپنی ملکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔
سول کورٹس سے رجوع کا حق
عدالت نے متاثرہ شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنی زمینوں کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے متعلقہ فورم یعنی سول کورٹس (سول عدالتوں) سے رجوع کریں۔ اگر وہ وہاں ثبوت فراہم کر دیتے ہیں تو عدالت ان کے حق میں ڈگری جاری کر سکتی ہے۔
تاریخی پس منظر
اس نوٹیفکیشن کی بنیاد پر چترال کے تقریباً 97 فیصد رقبے کو سرکاری ملکیت میں درج کر لیا گیا تھا، جسے مقامی آبادی ن کے بعض افراد نے 2019 میں چیلنج کیا تھا۔ 2019 میں چترال کے بعض شہریوں نے بیرسٹر اسد الملک کے ذریعے پشاور ہائی کورٹ میں ایک پیٹیشن WP 1057/2019 “پیپل آف چترال بنام فیڈریشن آف پاکستان“ کے نام سے دائر کی تھی۔
چترال کی خاص اہمیت
چترال اپنی جغرافیائی اہمیت، بلند اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں اور قدرتی حسن کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہے۔ اس علاقے کی زمین کی چند اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
جغرافیائی ساخت اور پہاڑ
چترال کا زیادہ تر حصہ بلند و بالا پہاڑوں اور گلیشیئرز پر مشتمل ہے۔
ہندوکش پہاڑی سلسلہ کا بلند ترین علاقہ
چترال کا علاقہ ہندوکش کے عظیم پہاڑی سلسلے میں مین واقع ہے، اس کی بلند ترین چوٹی ترچ میر (7,708 میٹر) چترال ہی میں واقع ہے۔
رقبہ
چترال کا کل رقبہ تقریباً 14,850 مربع کلومیٹر ہے، جو اب چترال ڈویشن پر مشتمل ہے اور اپر چترال اور لوئر چترال کے دو اضلاع میں تقسیم ہو چکا ہے۔
گلیشیئرز
چترال کی تقریباً 28.5 فیصد زمین گلیشیئرز، برف پوش پہاڑوں اور بنجر چٹانوں پر مشتمل ہے۔
متنوع ثقافت
چترال میں نہایت متنوع ثقافتی مظاہر کا بھی گھر ہے۔ کالاش کمیونٹی کے لوگ چترال کی ہی چند وادیوں میں رہتے ہیں۔ دوسری ثقافتی اکائی پختون ہیں جو باقی علاقوں کے پختونوں سے کافی الگ ہیں۔
ہزاروں سال سے الگ تھلگ علاقہ ہونے کی وجہ سے چترال اپنی لسانی تنوع (Linguistic Diversity) کی وجہ سے پوری دنیا میں منفرد ہے، جہاں تقریباً 12 سے 14 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ان میں سے اکثر زبانیں ہند-آریائی (Indo-Aryan) اور دردی (Dardic) خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
چترال کی اہم زبانیں درج ذیل ہیں:
1. کھوار (Khowar)
یہ چترال کی سب سے بڑی اور رابطے کی زبان (Lingua Franca) ہے۔
بولنے والے: چترال کی تقریباً 90% سے زائد آبادی یہ زبان بولتی ہے۔ اسے "چترالی زبان" بھی کہا جاتا ہے اور یہ تعلیم و ادب میں بھی استعمال ہوتی ہے۔
یہ زبان اپر اور لوئر چترال کے تمام حصوں میں سمجھی اور بولی جاتی ہے۔
2. کالاشہ (Kalasha)
یہ قدیم کالاش قبیلے کی زبان ہے جو اپنی مخصوص ثقافت کی وجہ سے مشہور ہے۔
علاقہ: یہ بنیادی طور پر تین وادیوں بمبورت، رمبور اور بریر میں بولی جاتی ہے۔
حیثیت: اسے ایک "خطرے سے دوچار" (Endangered) زبان سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کے بولنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
3. دیگر مقامی اور اقلیتی زبانیں
چترال کے مختلف حصوں میں کئی چھوٹی زبانیں بھی رائج ہیں:
پالوُلا (Palula): لوئر چترال کی وادی عشریت اور بیوڑی میں بولی جاتی ہے۔
دامیلی (Dameli): وادی دامل میں بولی جانے والی ایک قدیم زبان۔
گووار-بتی (Gawar-Bati): ارندو اور پاک افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔
واخی (Wakhi): بروغل اور بالائی علاقوں میں آباد لوگوں کی زبان، جس کا تعلق ایرانی لسانی خاندان سے ہے۔
یدغہ (Yidgha): وادی لٹکوہ (گرم چشمہ) میں بولی جاتی ہے۔
مدک لشٹی (Madaklashti): یہ فارسی کا ایک لہجہ ہے جو وادی مدک لشٹ میں بولا جاتا ہے۔
4. سرکاری اور قومی زبانیں
اردو: سرکاری کام کاج اور مختلف زبانیں بولنے والوں کے درمیان رابطے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
پشتو: چترال کے جنوبی حصوں (دروش وغیرہ) میں پشتو بولنے والی ایک بڑی آبادی موجود ہے۔
زمین کا استعمال اور زراعت
بلند پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں قابلِ کاشت زمین محدود ہے، تاہم مقامی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے:
کاشت کاری: تقریباً 45,017 ہیکٹر زمین سیراب شدہ ہے جہاں گندم، مکئی، چاول اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں۔
باغ بانی: یہاں کی زمین مختلف اقسام کے پھلوں جیسے سیب، ناشپاتی، خوبانی، شہتوت اور انگور کے لیے بہت زرخیز ہے۔
جنگلات: چترال کے کل رقبے کا تقریباً 4.7 سے 4.8 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر لوئر چترال اور دروش کے علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔
چراگاہیں: زمین کا ایک بڑا حصہ (62 فیصد) چراگاہوں پر مشتمل ہے جو لائف اسٹاک (بھیڑ، بکریوں) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
زمین کی ملکیت اور قانونی حیثیت
تاریخی پس منظر: قیامِ پاکستان سے قبل چترال ایک شاہی ریاست تھی جہاں زمینوں کی ملکیت مہترِ چترال اور شاہی خاندان کے پاس تھی۔
ریاست کا پاکستان کے وفاق میں انضمام: 1969 میں ریاست کے مکمل انضمام کے بعد زمینوں کی تقسیم اور ملکیت کے حوالے سے حکومتی قوانین نافذ ہوئے۔
2019 مین بعض چترالی شہریوں نے ہائی کورٹ مین ایک پیتیشن دائر کی جس میں 1975 کے نوٹیفیکیشن کو کالعدم کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
طویل عدالتی کارروائی کے بعد 25 نومبر 2025 کو ہائی کورٹ نے یہ درخواست منظور کر لی اور چترال کے عوام کو عمومی ریلیف یہ ملا کہ اگر وہ کسی زمین کی ملکیت کی قانونی دستاویزات رکھتے ہیں تو ملکیت حاصل کرنے کے لئے سول عدالت سے رجوع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
اس ضمن میں اپ ڈیٹ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ (FCC) میں چیلنج کر دیا ہے۔