جنگ، ہنگامی حالت ختم، عدالت کھلتے ہی نیتن یاہو کی طلبی ہو گئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) نیتن یاہو کی بدعنوانی کے مقدموں کی سماعت اتوار کو دوبارہ شروع ہو گی۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے طویل عرصے سے عدالت میں لٹکے ہوئے بدعنوانی کے مقدمات کی سماعت اتوار کو دوبارہ شروع ہو گی۔ تل ابیب کے میجسٹریٹ کی عدالت کے ترجمان نے یہ اطلاع اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے سبب ملک میں نافذ ہنگامی حالت کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد جمعہ کے روز بتائی۔ آج ہفتے کے روز اسرائیل میں شبت کی چھٹی ہے، کل اتوار کو عدالت کا پہلا ورکنگ ڈے ہو گا اور نیتن یاہو جنگ کے وقفے کے بعد ایک بار پھر ملزم کی حیثیت سے اپنی گواہی (بیان) پر جرح مکمل کروائیں گے۔
اسرائیل کے ضلع تل ابیب کے ڈسٹرکٹ میجسٹریٹ کی عدالت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایمرجنسی کے خاتمے اور عدالتی نظام کے کام پر واپس آنے کے بعد، سماعتیں معمول کے مطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گی،" اسرائیلی عدالت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اتوار اور بدھ کے درمیان ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیئے: نیتن یاہو وزارت عظمیٰ سے نکل کر جیل جائیں گے، امریکی تحقیقاتی صحافی کی فورکاسٹ
نیتن یاہو، پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہیں جن پر مالی کرپشن اور اختیارات کے نا روا استعمال کے جرائم کا الزام لگایا گیا ہے۔ الزامات پر تحقیقات رکوانے کے لئے نیتن یاہو کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔ برسوں تک سست روی سے ہوئی تحقیقات کے بعد 2019 میں رشوت لینے، دھوکہ دینے اور بریچ آف ٹرسٹ کے الزامات سپر مبنی تین مقدمے عدالت میں آئے اور تحقیقاتی عمل کی طرح مقدمے بھی لٹک گئے۔ اب چھٹے سال یہ نوبت آئی ہے کہ نیتن یاہو عدالت آ کر اپنی گواہی ریکارڈ کروا رہے ہیں اور ان پر ان کے اپنے وکیل جرح کر رہے ہیں۔ ریاست کے وکیلوں کی جرح کی اب تک نوبت نہیں آئی۔
ٹرائل، جو 2020 میں شروع ہوا اور سماعت مکمل ہوتے ہی نیتن یاہو کو جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ پرائم منسٹر کی سرکاری مصروفیات کے بہانوں کی وجہ سے عدالت کا عمل بار بار تاخیر کا شکار ہوتا رہا، جس کی تکمیل کی کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں لیکن بہت ممکن ہے کہ آئندہ چھ ماہ میں سب کچھ مکمل ہو جائے۔ چھ ماہ بعد اسرائیل میں کنیست کے الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔