سول عدالت کی جانب سے خاتون کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

Oct 08, 2025 | 19:35:PM
سول عدالت کی جانب سے خاتون کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے سول عدالت کی جانب سے خاتون کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے مسز بہرائی کی اپیل پر 6 صفحوں پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔

جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں لکھا کہ ریکارڈ کے مطابق فریقین کے درمیان سول عدالت میں ڈگری کا کیس چل رہا تھا، عدالت نے 30 دن میں جواب جمع نہ کرنے پر درخواست گزار کا حق دفاع ختم کر دیا، 1908 کے سیکشن 26 اے کے تحت درخواست گزار 30 روز میں جواب جمع کرانے کا پابند تھا۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کی تبدیلی پر مولانا فضل الرحمٰن کا اہم بیان سامنے آ گیا

جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہا کہ اس قانون میں قانون ساز کی منشا یہ تھی کہ زیر التوا کیسز میں کمی آئے، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ تاخیر جان بوجھ کر دعوے کو لٹکانے کیلئے تھی، موجودہ کیس میں دعوے پر پہلی کارروائی 25 اگست 2021 کو ہوئی تھی، ریکارڈ کے مطابق دعوے کے دوران درخواست گزار عمل کا حصہ بنا اور کوئی تاخیری حربہ استعمال نہیں کیا۔

عدالت نے خود درخواست گزار کو جواب جمع کرانے کا وقت دے دیا، عدالت نے سول عدالت کی جانب سے خاتون کا حق دفاع ختم کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
 یہ بھی پڑھیں:علی امین گنڈاپور نے مستعفی ہونے کے بعد پہلا رابطہ کس سے کیا؟پتہ چل گیا

دیگر کیٹیگریز: پاکستان - پنجاب
ٹیگز: