آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پھر پر لگ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اضافے کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اب ختم ہو چکی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔
امریکی اور برطانوی خام تیل کی قیمتیں ایک ہی روز میں 7 فیصد سے زائد بڑھ گئیں۔ امریکی خام تیل 75 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے، جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت بڑھ کر 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
توانائی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات میں اضافے نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
اس سے ایک روز قبل بھی تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا تھا، جب امریکا نے ایرانی خام تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا عمومی لائسنس منسوخ کر دیا تھا۔
نیٹو اجلاس سے قبل گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا عبوری معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے اور وہ تہران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق تازہ صورتحال نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزیاں:امریکا کے ایران پر حملے ، اسرائیل کی لبنان پر بمباری
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فضائی حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے گئے، جبکہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث کئی آئل اور گیس ٹینکرز نے اپنا راستہ تبدیل کر لیا ہے یا وہاں سے گزرنے سے گریز کیا ہے، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی تیل منڈی پر فوری اثر ڈالتی ہے۔