والدہ کے انتقال کے بعد لہجے میں تلخی آگئی تھی : ندا یاسر 

Jul 08, 2025 | 12:04:PM
 والدہ کے انتقال کے بعد لہجے میں تلخی آگئی تھی : ندا یاسر 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)اداکارہ و ٹی وی میزبان ندا یاسر نے انکشاف کیا ہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد وہ اس قدر ٹوٹ گئی تھیں کہ ان کے لہجے میں اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے بھی تلخی آ گئی تھی۔

حال ہی میں ندا یاسر نے اپنے مارننگ شو ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں اپنی والدہ کے انتقال کے حوالے سے جذباتی گفتگو کی۔

ندا یاسر نے بتایا کہ جب ان کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ پاکستان میں موجود نہیں تھیں، اس لیے جنازے میں شرکت نہیں کی اور جب وہ واپس آئیں تو انہیں صبر نہیں آ رہا تھا۔

میزبان کے مطابق وہ اس قدر غمزدہ تھیں کہ کئی دنوں تک اپنی والدہ کے واٹس ایپ وائس پیغامات سنتی رہیں اور ان کی آواز سے خود کو تسلی دیتی رہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کا غم کم نہیں ہو رہا تھا اور جب بھی وہ ان کی آواز سنتی تھیں، تو آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔

  یہ بھی  پڑھیں:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی،عدالت سے اہم خبر آگئی ۔۔۔

 ندا یاسر کا کہنا تھا کہ والدہ کی موت کا اتنا گہرا صدمہ تھا کہ ان کے لہجے میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے بھی تلخی آ گئی تھی اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس صدمے سے کیسے باہر نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں انہوں نے خود سے بات کی اور یہ فیصلہ کیا کہ اگر یہی رویہ جاری رہا تو وہ اپنے اردگرد کے افراد کے ساتھ ناانصافی کرتی رہیں گی، اس لیے انہوں نے طے کیا کہ اب وہ اپنی والدہ کے وائس پیغامات نہیں سنیں گی۔

ندا یاسر نے یہ بھی بتایا کہ ان کی والدہ کے وہ پیغامات آج بھی ان کے پاس محفوظ ہیں، لیکن ان میں انہیں دوبارہ سننے کی ہمت نہیں ہے۔