کورونا سے متاثرہ ماں کا دودھ نومولود کیلئے مفید یا نقصان دہ۔۔۔نئی تحقیق میں اہم انکشافات

Jan 08, 2022 | 23:02:PM
حمل، کووڈ، ماں، دودھ، بیماری سے تحفظ،
کیپشن: نومولود، فائل فوٹو
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)حمل کے دوران کووڈ 19 کا سامنا کرنے والی ماں کے دودھ سے نومولود بچوں میں بیماری سے تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز منتقل ہوتی ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ایڈاہو یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ماں کے دودھ سے کورونا وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز نومولود بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔نئی تحقیق سے سابقہ نتائج کو تقویت ملتی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس سے متاثر خواتین سے بیماری کو تحفظ فراہم کرنے والی اینٹی باڈیز بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔اس تحقیق میں 60 سے زیادہ خواتین کو شامل کیا گیا تھا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص کو کم از کم 2 ماہ ہوچکے تھے اور ان سے نمونے حاصل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: مری میں رات کو کیا ہوا، اموات کیسے ہوئیں؟ زندہ بچنے والے سیاح کی ویڈیو منظر عام پر، سنسنی خیز انکشافات

محققین نے بتایا کہ یہ بہت اہم ہے کہ بیماری کے 2 ماہ بعد بھی بیشتر خواتین میں اینٹی باڈیز کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، تو ہمارا مشورہ ہے کہ اگر آپ اس بیماری کا شکار ہوئی ہیں تو بچے کو دودھ پلانا مت چھوڑیں۔تحقیق کے دوران نمونوں کی جانچ پڑتال میں ان اینٹی باڈیز کو دیکھا گیا تھا جو کورونا وائرس کے اسپائیک پروٹین کے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ 2 ماہ بعد بھی دوتہائی خواتین کے دودھ میں اینٹی باڈیز بن رہی تھیں اور یہ عمل کووڈ کی تشخیص کے ایک ہفتے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔محققین نے بتایا کہ ماں کے دودھ میں موجود اینٹی باڈیز سے خواتین کے بچوں کو بیماری کے خلاف دیرپا مدافعت ملنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مری میں جاں بحق ہونے والے ایک ہی خاندان کی آخری ویڈیو سامنے آگئی

اس سے قبل ستمبر 2021 میں امریکا کے مانٹ سینائی ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کووڈ 19 کا شکار ہونے والی خواتین 10 ماہ تک اپنے دودھ کے ذریعے وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز بچوں تک منتقل کرتی رہتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ماں کی جانب سے بچے کو دودھ پلانا انہیں بیماری سے بچانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ بیماری سے بننے والی اینٹی باڈیز ماں کے دودھ کے ذریعے بچے میں منتقل ہوکر انہیں تحفظ فراہم کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ جاننا ضروری تھا کہ ماں کے دودھ میں اینٹی باڈیز ہوتی ہیں یا نہیں، بیماری کے بعد کتنے عرصے تک تحفظ ملتا ہے۔ماں کے دودھ میں موجود اینٹی باڈیز خون اور ویکسینیشن سے متحرک ہونے والی آئی جی جی اینٹی باڈیز سے کسی حد تک مختل ہوتی ہیں۔یہ اینٹی باڈیز بچوں کے نظام تنفس اور آنتوں میں رہ کر وائرسز اور بیکٹریا کو جسم میں داخل ہونے سے روکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تعلیمی اداے پھر بند۔۔۔؟کب سے؟ شفقت محمود کا پریس کانفرنس میں اہم اعلان