وہ نیک ’’بابے‘‘ اپنےرب کے پاس چلے گئے، اب تو صرف افراتفری

’’تایا بابو کی بیٹھک: ہوشیار پور سے پنجاب تک، یادوں کا ایک بجھا ہوا الاؤ‘‘

Dec 08, 2025 | 19:45:PM
وہ نیک ’’بابے‘‘ اپنےرب کے پاس چلے گئے، اب تو صرف افراتفری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) شوشل میڈیا پر ’’تایا بابو کی بیٹھک: ہوشیار پور سے پنجاب تک، یادوں کا ایک بجھا ہوا الاؤ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون ںظروں سے گزرا ، جس نے دل کو چھو لیا ،  وہ بزرگ تو دنیا میں نہیں رہے لیکن  ان کو  آج بھی لوگ اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں ، موبائل نے لوگوں سے مل بیٹھ کر اچھی باتیں اور زندگی کے تجربات  ایک دوسرے سے بانٹنے کے لمحات کھو دیئے ہیں۔ اس مضمون کو ضرور پڑھیں۔۔۔!

اور اس وجہ  سوچا آج بھی دسمبر کی سرد راتوں میں جب خاموشی چاروں اور اپنے ڈیرے ڈال لیتی ہے، تو کان منتظر رہتے ہیں کہ کسی کونے سے تایا نواب دین عرف بابو کی بیٹھک میں دہکتے الاؤ کی چٹختی آواز اور حقے کی گڑگڑاہٹ شاید آج بھی سنائی دے جائے۔ وہ کچی دیواروں والی بیٹھک صرف ایک عمارت نہیں تھی، بلکہ چار ایسی عظیم روحوں کی مشترکہ تاریخ، تہذیب اور محبت کا گڑھ تھی جو سب کے سب ہندوستان کے ہوشیار پور سے ہجرت کر کے آئے تھے۔ الاؤ کے گرد تایا قطب دین (رائل آرمی سے ریٹائرڈ) کے رعب دار قصے، تایا شرف دین (پاکستان آرمی سے ریٹائرڈ) کا قومی جوش، اور تایا حاکم علی (درویش بابا) کی حکمت بھری خاموشی، تایا بابو کی شفیق میزبانی میں ایک ایسا رچاؤ پیدا کرتی تھی جو آج کے کسی جدید ڈرائنگ روم میں ممکن نہیں۔

​اس محفل کی روح حقے کی گڑگڑاہٹ تھی، جو بزرگوں کے دل کی دھڑکن کی طرح پس منظر میں جاری رہتی۔ ٹھیک آٹھ بجے ریڈیو پر جب بی بی سی لندن سے "سیربین" یا "شب نامہ" نشر ہوتا تو بیٹھے سارے لوگ ساکت ہو جاتے، اور خبریں ختم ہوتے ہی دنیا بھر کے حالات، گاؤں کے معاملات، اور ملکی سیاست پر دلچسپ تبصروں کا دور شروع ہو جاتا۔ ان گرما گرم بحثوں میں جب گڑ اور خالص دودھ والی چائے کی مہک شامل ہوتی تو کچے کمرے کا ماحول کسی شاہی محفل سے کم نہ لگتا۔ چائے کی ایک چسکی حلق سے اترتے ہی سردیوں کی یخ بستہ شدت کا احساس کافور ہو جاتا اور محفل کی رونقیں دوبالا ہو جاتیں۔

​جیسے جیسے رات گہری ہوتی، گفتگو کا رخ سیاست سے ہٹ کر جذبات کی طرف مڑ جاتا اور ہوشیار پور کی یادیں شدت اختیار کر لیتیں۔ یہ وہ وقت تھا جب سیاست سے ہٹ کر دل کا درد زبان پر آتا۔ ان سب بزرگوں کی آنکھیں نم ہو جاتیں اور کوئی ایک لمبی آہ بھر کر کہتا کہ "پتر! ایتھے سب کچھ ہے، پر پانی اوتھے دا ای مٹھا سی"..."ساری دنیا گھوم لی مگر وہیں کے پانی میں مٹھاس تھی"۔ ​پھر کوئی ایک آہ بھرتا اور کہتا: "امب تے ہوشیار پور دے سن"،، "یار! ہوشیار پور کے آموں کی مٹھاس یہاں کہاں؟"

یہ صرف ایک دیس کی یاد نہیں تھی، بلکہ اپنے پیاروں سے بچھڑنے اور اپنے ماضی کو ہمیشہ کے لیے پیچھے چھوڑ آنے کا ایک دائمی کرب تھا۔ یہ بزرگ، جن کے تجربات کی گواہی ان کے سفید بالوں اور چہرے کی جھریوں میں عیاں تھی، اپنی سادگی اور سچائی سے اس دور کی اصل روح کو زندہ رکھتے تھے۔

​آج وہ بیٹھک ویران ہے، وہ الاؤ بجھ چکا ہے اور وہ چاروں عظیم روحیں (تایا بابو، تایا شرف دین، تایا حاکم علی، اور تایا قطب دین) اللہ کو پیاری ہو چکی ہیں۔ ان کے جانے سے صرف ایک نسل کا خاتمہ نہیں ہوا، بلکہ ایک بھرپور، جذباتی اور روایات سے مالا مال ثقافت کا باب بند ہو گیا ہے۔ ان کی یادیں ہمیں احساس دلاتی ہیں کہ ہم نے پکے مکان تو بنا لیے، مگر ان کچی بیٹھکوں کی سچی محبتیں کھو دیں۔ اللہ ان سب بزرگوں کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ 
امین ثم امین
(محفوظ چوہدری)

یہ بھی پڑھیں:خاتون کانسٹیبل نے زندگی کا خاتمہ کرلیا، سوسائیڈ نوٹ بھی برآمد