تھیٹر والوں سیدھے ہو جاؤ۔۔۔اداکاروں کیلئے خطرے کی گھنٹی،حکومتی کیمرے مانیٹرنگ کریں گے

زین مدنی حسینی 

Dec 08, 2025 | 18:09:PM
تھیٹر والوں سیدھے ہو جاؤ۔۔۔اداکاروں کیلئے خطرے کی گھنٹی،حکومتی کیمرے مانیٹرنگ کریں گے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی تھیٹر انڈسٹری ایک بار پھر تبدیلی کے دوراہے پر کھڑی ہے اور اس بار یہ تبدیلی محض اعلانات یا بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آ رہی ہے حکومت پنجاب خصوصاً صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے تھیٹر کو اس کی اصل شناخت اور اصل وقار واپس دلانے کے لیے جو کارروائیاں شروع کی ہیں ان کے اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

برسوں سے تھیٹر میں فحاشی غیر اخلاقی رقص کم درجے کے مکالمے اور سکرپٹ سے ہٹ کر کی جانے والی حرکات نے اس فن کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور وہ تھیٹر جو کبھی فیملیز کے لیے تفریح کا محفوظ ترین ذریعہ تھا وہ ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو کر رہ گیا لیکن اب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ یہ سب مزید نہیں چلے گا سب سے پہلے تھیٹرز پر چھاپے مارے گئے غیر اخلاقی حرکات میں ملوث کئی اداکاراؤں کو بین کیا گیا تھیٹر مالکان کو سخت نوٹسز جاری کیے گئے اور مانیٹرنگ کے نظام کو پہلے سے زیادہ سخت بنا دیا گیا۔

 حکومت نے تمام تھیٹرز میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ شروع کی لیکن ایک نیا مسئلہ سامنے آیا جب تھیٹر مالکان بار بار کیمرے بند کر دیتے تھے اور ہر بار ایک ہی بہانہ سامنے آتا تھا کہ بجلی چلی گئی تھی یہ بہانہ بازی حکومت کی اصلاحاتی کوششوں کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن گئی تاہم اس بار حکومت نے اس رکاوٹ کا مکمل حل نکال لیا ہے۔ محکمہ اطلاعات و ثقافت نے پی آئی ٹی بی کو ٹاسک دے دیا ہے کہ پنجاب بھر کے تمام اڑتیس تھیٹرز میں اب حکومت خود اپنے کیمرے نصب کرے گی یہ کیمرے تھیٹر کی مرضی سے نہ بند ہوں گے نہ تبدیل کیے جا سکیں گے اور ان کی نگرانی براہ راست حکومتی کنٹرول روم سے ہوگی اس کے ساتھ ہر تھیٹر میں یو پی ایس سسٹم بھی لگایا جا رہا ہے تاکہ لائٹ جانے کا بہانہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے اس کے ساتھ ایک اور بڑا فیصلہ یہ ہے کہ جس تھیٹر کو دس نوٹسز جاری ہو جائیں گے اس پر سخت قانونی کارروائی کی جائے گی حتیٰ کہ اس کا لائسنس بھی منسوخ کیا جا سکتا ہے یہ وہ اقدام ہے جس نے پہلی بار تھیٹر مالکان کو حقیقی دباؤ میں ڈال دیا ہے اور یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اب غیر اخلاقی مواد برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 حقیقت یہ ہے کہ تھیٹر میں موجود کچھ لوگ اب بھی باز نہیں آ رہے مسلسل وارننگز کے باوجود غیر اخلاقی پرفارمنسز ہو رہی ہیں لیکن نئے مانیٹرنگ سسٹم کے بعد ان کی گنجائش بہت محدود ہو جائے گی حکومت چاہتی ہے کہ تھیٹر دوبارہ وہی مقام حاصل کرے جہاں معیار تھا کردار تھا کہانی تھی فن تھا اور ادب تھا وہ تھیٹر جو فیملیز کے لیے محفوظ تھا جہاں سماجی پیغام بھی ہوتا تھا اور خالص فن بھی آنے والے دنوں میں اگر حکومت اپنی پالیسی پر اسی مضبوطی سے قائم رہی تو پنجاب کا تھیٹر دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے وہی پرانی بہاریں واپس آ سکتی ہیں اور تھیٹر ایک بار پھر ثقافت کا آئینہ بن کر سامنے آ سکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ تھیٹر انڈسٹری اس اصلاحات کو قبول کرتی ہے یا ضد کی بنیاد پر اپنا ہی نقصان کرتی ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پنجاب کا تھیٹر بہت جلد اپنی اصل شناخت اور اصل شان کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا۔

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: