ماسکو فارمیٹ اجلاس، اختتام پذیر، اعلامیہ جاری، افغانستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ

Oct 07, 2025 | 21:26:PM
ماسکو فارمیٹ اجلاس، اختتام پذیر، اعلامیہ جاری، افغانستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انور عباس)روس کے شہر ماسکو  میں افغانستان پر ساتواں ماسکو فارمیٹ اجلاس اختتام پذیر ہو گیا،ماسکو فارمیٹ مشاورت کے شرکاء نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔فریقین نے افغانستان کو ایک خودمختار، متحد اور پُرامن ریاست کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

تفصیلات کے  مطابق روسی سفارت خانے کی جانب سے بھی مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے،ترجمان روسی سفارتخانہ کے کہنا ہےکہ7 اکتوبر کو افغانستان پر ماسکو فارمیٹ مشاورت کا ساتواں اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا ، جس میں افغانستان، بھارت، ایران، قازقستان، چین، کرغزستان، پاکستان ،روس، تاجکستان اور ازبکستان کے خصوصی نمائندگان اور سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں بیلاروس کا وفد بطور مہمان شریک ہوا,اجلاس میں پہلی مرتبہ افغان وفد وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی زیر قیادت بطور رکن شریک ہوا, فریقین نے افغانستان کو ایک خودمختار، متحد اور پُرامن ریاست کے قیام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا, فریقین نے زور دیا کہ افغانستان کی معاشی و تجارتی روابط، سرمایہ کاری کے تعاون اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت کو فروغ دیا جائے,فریقین نے افغانستان کی شرکت سے علاقائی اقتصادی منصوبوں کی ترقی، صحت، غربت کے خاتمے میں پیش رفت کے فروغ ہر زور دیا,اجلاس میں زراعت اور آفات کی روک تھام جیسے شعبوں میں پیش رفت کو فروغ دینے پر.زور دیا گیا, تاکہ افغانستان جلد از جلد خود انحصاری اور پائیدار ترقی حاصل کر سکے, فریقین نے افغانستان کو علاقائی رابطہ کاری کے نظام میں فعال طور پر شامل کرنے کی حمایت کی,فریقین نے افغان عوام کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا,فریقین نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی لائے فریقین نے اس امداد کے سیاسی استعمال کی کوششوں کی بھی مخالفت کی,فریقین نے دو طرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا, انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات کرے, تاکہ اس کی سرزمین کو پڑوسی ممالک یا دیگر ریاستوں کے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے, فریقین نے دہشت گردی کو افغانستان، خطے اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا,فریقین نے علاقائی ڈھانچوں اور فورمز کے اہم کردار کو اجاگر کیا, فریقین نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے بنیادی ذمہ دار ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے لیے اپنے وعدے پورے کریں, فریقین نے بعض ممالک کی طرف سے افغانستان یا اس کے ہمسایہ ممالک میں فوجی ڈھانچے کی تعیناتی کی کوششوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا،کیونکہ یہ اقدامات علاقائی امن و استحکام کے مفاد میں نہیں ہیں۔

یہ بھی  پڑھیں:ایشیائی گیمز میں کھلاڑیوں کی سیلف فنانس کی بنیاد پر شرکت پر پابندی