جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی یہ تمام آئینی ترامیم ختم کر دیں گے،شوکت بسرا
27 ویں آئینی ترمیم وقت کے ساتھ جو چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں ان کو ٹھیک کرنے کیلئے لائی جا رہی ہیں ،اختیار ولی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا ہے کہ اس حکومت کے پاس 2 تہاہی اکثریت نہیں جو آئین میں ترمیم کر سکیں اس لیے جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی یہ تمام آئینی ترامیم ختم کر دیں گے۔
24نیوز کے مطابق پروگرام گونج میں مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا کہ ہم نے 27ویں آئینی ترمیم کی مخالفت کے لیے مولانا فضل الرحمان سے بات کی ہے لیکن ہمیں ان پر بھروسہ نہیں اس لیے اس بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ۔اس وقت کی حکومت بے بس ہے ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے جنہوں نے ان کو مسلط کیا ہے جو ڈرافٹ وہاں سے آجائے گا یہ لائن لگا کر اس کو ووٹ دے دیں گے،اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے یہ 10 ترامیم بھی لا سکتے ہیں کہ اس حکومت کے پاس 2 تہاہی اکثریت نہیں اس لیے جب تحریک انصاف کی حکومت آئے گی یہ تمام آئینی ترامیم ختم کر دیں گے۔
پروگرام میں شامل پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے بات کرتے ہوئے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم وقت کے ساتھ جو چیزیں تبدیل ہو رہی ہیں ان کو ٹھیک کرنے کے لیے لائی جا رہی ہیں ۔جس وقت 26ویں آئینی ترمیم لائی جا رہی تھی اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے لوگوں نے اس کا ڈرافٹ دیکھ کر کہا تھا کہ یہ تو سارے وہی نکات ہیں جو ہم نے لکھے تھے۔ان کے کہنے پر ہی آئینی عدالت کو آئینی بینچ بنا دیا گیا ،حالانکہ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نےسی ڈی چی میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ آئینی عدالت بنے گی تو ان تمام چیزیوں کو ری وزٹ کرنا ہے ہمیں وے آؤٹ نکالنا ہے ۔این ایف سی معاملے پر پیشرفت ہو جائیگی ٹی وی کی باتیں سن کر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے حقیقت میں بات الگ ہوتی ہے جب سیاسی پارٹیوں کے بڑے لوگ مل کر بیٹھتے ہیں تو بہت سے معاملات بہت آسانی سے حل ہوجاتے ہیں ۔
پروگرام میں شریک پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیئر رہنما حیدرزمان قریشی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بہت نازک دور سے گزر رہی ہے اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو ان کا حصہ دینے کے بعد وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا اور وفاق کو ترقیاتی کام اور قرض کی واپسی کے لیے مزید قرض لینا پڑتا ہے ۔18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ٹیکس کلیکشن میں اضافہ کرنا تھا لیکن ٹیکس بڑھانے کے لیے صوبوں اور وفاق نے ٹھیک طرح سے کام نہیں کیا، این ایف سی ایوارڈ کے لیے صوبوں سے وفاق کو بات کرنی پڑے گی تب ہی کوئی حل نکلے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف جو اس وقت 27ویں ترمیم کی مخالف نظر آرہی ہے وہ چھبیسویں ترمیم میں حکومت کے ساتھ تھی،تحریک انصاف کا اسی نظام کا حصہ ہوتے ہوئے نظام کو جعلی کہنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔آج سب 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا کریڈٹ لے رہے ہیں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی کی گئی ترمیم ہے ۔