بانی پی ٹی آئی کی ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی درخواست خارج

Feb 07, 2026 | 13:14:PM
بانی پی ٹی آئی کی ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی درخواست خارج
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ارشاد قریشی)بانی پی ٹی آئی کی ذاتی معالجین سے طبی معائنے کی درخواست خارج کردی گئی۔
درخواست انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے خارج کی،درخواست پر سماعت اے ٹی سی کے جج امجد علی شاہ نے کی ،بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک عدالت پیش ہوئے،پراسیکیوشن کی جانب سے اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے دلائل دئیے۔
پی ٹی آئی کے وکیل فیصل ملک نے کہاکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل میں ذاتی معالج کی سہولت حاصل رہی ہے،بانی پی ٹی آئی بھی ملک کے سابق وزیراعظم ہیں برابری کے سلوک کے مستحق ہیں،اڈیالہ جیل میں آنکھوں کی ٹریٹمنٹ کا انتظام نہیں ہے،بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی ہیں انکا ذاتی معالج سے میڈیکل چیک اپ حق ہے۔
 فیصل ملک نے کہاکہ رول 795 کے مطابق بانی کے علاج سے قبل انکی فیملی کو آگاہ کرنا ضروری ہے،تین سال میں بانی کو کبھی جیل سے باہر نہیں لے جایا گیا، ایسے کیا غیر معمولی حالات بنے بانی کو رات گئے پمز ہسپتال لے جانا پڑا، عدالت سے استدعا ہے کہ بانی کے ذاتی معالجین کو اڈیالہ جیل میں رسائی دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:سوناپھرہزاروں روپے مہنگا،فی تولہ قیمت سن کرہوش اڑجائیں
اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی انڈر ٹرائل قیدی نہیں ہیں، نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی ضمانت پر ہیں،بانی پی ٹی آئی جی ایچ کیو کیس میں انڈر ٹرائل ملزم ہے قیدی نہیں، کریمینل کورٹ کے پاس اختیار نہیں ضمانت پر کسی ملزم کی کسٹڈی کو ریگولیٹ کرے، یہ کوئی آئینی عدالت نہیں کریمینل کورٹ ہے،کسی بھی قیدی کے علاج معالجے کیلئے حکومت ڈاکٹرز کا تعین کرتی ہے،پاکستان پرزن رولز میں پرائیویٹ ڈاکٹرز سے علاج کرانے کا کوئی ذکر نہیں، کسی بھی قیدی کیلئے ذاتی معالج کا پرزن رولز میں کوئی رول نہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد بانی کیلے ذاتی معالجین کی اڈیالہ جیل میں رسائی کی درخواست خارج کردی۔