ڈارک ویب پر کسی کا بھی ڈیٹا غلط استعمال ہو سکتا ہے؛ احمد منظور 

 ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ہمیں درست اور محفوظ استعمال پر توجہ دینی چاہیے،مارننگ ودفضامیں گفتگو

Nov 06, 2025 | 15:47:PM
ڈارک ویب پر کسی کا بھی ڈیٹا غلط استعمال ہو سکتا ہے؛ احمد منظور 
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24نیوز ) ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایکسپرٹ احمد منظور نے 24نیوزکے پروگرام ’’مارننگ ود فضا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیاہے کہ ڈارک ویب پر کسی کا بھی ڈیٹا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
  ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ایکسپرٹ احمد منظور نے 24نیوزکے پروگرام ’’مارننگ ود فضا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈارک ویب دراصل خفیہ ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی،آج کل ٹیکنالوجی اس حد تک ترقی کر چکی ہے کہ کسی بھی انسان کی تصویر سے اس کا ہم شکل تیار کیا جا سکتا ہے۔ چند روز قبل ایک ٹرینڈ چلا تھا جس میں لڑکیاں اے آئی کے ذریعے ساڑھی میں اپنی تصاویر بنا رہی تھیں جو دراصل ایک بڑا سائبر اٹیک تھا، مگر لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکا۔
 احمد منظور کے مطابق ہم اکثر بغیر سوچے سمجھے کسی بھی ٹرینڈ کا حصہ بن جاتے ہیں، اگر کسی شخص کو اپنا ’’ڈیجیٹل ٹوئن‘‘ بنانا ہو تو صرف 100 تصویریں کافی ہیں، اس کے بعد اصل اور نقل میں فرق کرنا ممکن نہیں رہتا۔
 انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں یہ رجحان مزید بڑھے گا، ڈارک ویب پر بے شمار ڈیٹا موجود ہے، تاہم انٹرنیٹ پر رکھا گیا عام ڈیٹا بھی احتیاط سے شیئر کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ بھی صارف کو ٹریک کروا سکتا ہے، جدید کیمروں کے ذریعے اب ایسے زوم کیے جا سکتے ہیں کہ اگر کسی کے انگوٹھے کی تصویر لے لی جائے تو اس کی پوروں تک کی تفصیلات حاصل کر کے انہیں غلط مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 
احمد منظور کے مطابق آج کل کے کیمرے 100x اور 200x تک زوم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا قریب سے لی گئی تصاویر کو بھی کوئی شخص زوم کر کے فائدہ اٹھا سکتا ہے،موجودہ دور میں فیس ریکگنیشن اور ریٹنا اسکین کے ذریعے موبائل فون کھولے جا سکتے ہیں جبکہ زوم کالز کی ریکارڈنگ سے بھی بلیک میلنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
 احمد منظور نے مشورہ دیا کہ صارفین اپنے چہرے کے تاثرات، انداز اور آواز میں وقتاً فوقتاً تبدیلی لاتے رہیں تاکہ ان کا ڈیٹا محفوظ رہے، ڈیپ فیک ویڈیوز کے ذریعے کسی بھی شخص کی جعلی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے، تاہم ویڈیوز کا بغور مشاہدہ کر کے ایسی فیک ویڈیوز کی پہچان ممکن ہے، جب بھی نئی ٹیکنالوجی آتی ہے تو اس کے درست استعمال کے لیے پالیسیاں بنانا ضروری ہوتا ہے، دنیا بھر میں اے آئی اور بلاک چین کی پالیسیز بن چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فیصل آباد میں بھی ای چالان کا باقاعدہ آغاز ہوگیا
 احمد منظور نے کہا کہ علم اور آگاہی ہی سب سے زیادہ ضروری ہے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کیا شیئر کرنا چاہیے اور کیا نہیں؟ انہوں نے وضاحت کی کہ سرفس ویب عام صارفین کے لیے ہے، ڈیپ ویب کمپنیوں کے زیر استعمال رہتی ہے جبکہ ڈارک ویب دراصل امریکی نیوی نے اپنی خفیہ دستاویزات کے لیے ایک منصوبے کے طور پر تیار کی تھی جسے بعد میں عام استعمال کے لیے کھول دیا گیا، ڈارک ویب ایک خفیہ دنیا ہے جہاں رکھا گیا کوئی بھی ڈیٹا ٹریس نہیں کیا جا سکتا، اس تک رسائی کے لیے خصوصی براؤزر درکار ہوتا ہے اور وہاں صارفین اپنا اصل نام استعمال نہیں کرتے۔
 ڈارک ویب پر ٹرانزیکشنز بھی مکمل طور پر خفیہ رکھی جاتی ہیں اور وہاں سوئی سے لے کر میزائل تک ہر چیز خریدی جا سکتی ہے، بعض لوگ وہاں پرتشدد مناظر بھی دیکھتے ہیں۔ ہمیں ٹیکنالوجی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کے درست اور محفوظ استعمال پر توجہ دینی چاہیے تاکہ ڈیٹا کے غلط استعمال سے خود کو بچایا جا سکے۔