حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55روپے اضافہ کر دیا گیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل فی لیٹر قیمت میں 55روپے اضافہ کر دیا ہے ۔پٹرول کی نئی قیمت 321روپے 17پیسے فی لٹر ہوگئی جبکہ ڈیزل کی قیمت بڑھ کر 335روپے 86 پیسےفی لٹر ہوگئی۔
نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے، وزیراعظم نے میری سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پورے خطے میں جنگ کی صورتحال ہے،تمام سٹیک ہولڈرزسے مل کر پٹرولیم قیمتوں پر غور کیا گیا ہے، وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی روزانہ کی بنیا د پر جائزہ لے رہی ہے، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کوشش کی ہے کہ عالمی صورتحال کا اثر عوام پر کم سے کم ہو۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جنگ کی صورتحال پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سےبات ہوئی ہے، مختلف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، دیگر ممالک میں خودکار طریقے سے قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے، اس وقت صورتحال میں کوئی ٹھہرائو نہیں آیا،مشرق وسطیٰ اور خلیج ممالک کے ساتھ بھی رابطے رہے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ جنگ کی صورتحال پر قابو پایا جائے،وزیراعظم شہباز شریف اپنے ہم منصبوں سے متعدد بار بات چیت کر چکے ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آرمڈ فورسز کے حوالے سے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،اللہ تعالیٰ ہمیں پوری امہ اور خطے کو اس گھمبیر صورتحال سے نکالے،وزیراعظم کی ہدایت پر عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر کمیٹی قائم کی گئی،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیادوں پر خطیر اضافہ ہو رہا ہے، توانائی اور پاکستان کی معیشت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں،اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم میکرو اسٹیبلٹی کے حوالے سے اچھی پوزیشن پر ہیں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ڈیمانڈ مینجمنٹ اور لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے وزیر پٹرولیم نے بہت کوششیں کی ہیں، وزیراعظم کی ہدایت پر اگلے دو دنوں میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقات کریں گے،تازہ ترین صورتحال کے حوالے سے ان سے خود بات کریں گے۔
وزیرپیٹرولیم علی پرویز نے بتایا کہ وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا مشکور ہوں،اس مشکل مرحلے میں انہوں نے پٹرولیم ڈویژن کی رہنمائی کی، اس پر ان کا مشکور ہوں، آج ہم غیر معمولی حالات سے گذر رہے ہیں، جو آگ ہمسایہ ملک سے شروع ہوئی تھی، آج اس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس صورتحال کے دوران ہم نے چند ہفتوں میں اپنے ذخائر کو مناسب حد تک بڑھا دیا تھا۔
علی پرویز نے بتایا کہ موجودہ صورتحال ختم ہونے کی کوئی تاریخ متعین نہیں، بحیثیت قوم ہمیں اس نظام کو ذمہ داری سے چلانے کی کوشش کرنی چاہئے،اس مقصد میں قیمت کا بنیادی کردار ہے، ہمارے پاس وافر ذخائر موجود تھے، اس کے مطابق ہم نے سپلائی کو منظم رکھا،چیف سیکریٹریز صاحبان کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس ضمن میں قانون کو حرکت میں لائیں۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے دو جہاز یمبو پورٹ اور فجیرہ پورٹ کی طرف رواں دواں ہیں،پاکستان کی توانائی کی ضرورت پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہییں،آرامکو نے بھی یمبو پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ہمارے سمندروں میں لا کر کھڑا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں بے پناہ بڑھاوا سامنے آ رہا ہے۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ یکم مارچ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہم نے نظرثانی کی اس وقت پٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل تھی،ڈیزل کی قیمت یکم مارچ کو 88 ڈالر فی بیرل تھی، آج ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے، آج 6 مارچ کو پٹرول کی قیمت 106 ڈالر 80 سینٹ اور ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، مجبوراً ہمیں قیمتوں میں اضافے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔
علی پرویز نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے، جیسے ہی صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو واپس اپنی سطح پر لائیں گے،ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں :کیا پنجاب میں اسکول بند ہورہے ہیں؟