گلہری انسانی طب میں انقلاب کی نئی اُمید بن گئی

Jul 06, 2026 | 21:09:PM
گلہری انسانی طب میں انقلاب کی نئی اُمید بن گئی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )دنیا کے انتہائی سرد خطوں میں پائے جانے والے ننھے جانور آرکٹک گراؤنڈ سکوئرل نے سائنسدانوں کو انسانی طب میں بڑی پیش رفت کی نئی امید فراہم کر دی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ جانور حیران کن صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے درجہ حرارت کو نقطۂ انجماد سے بھی نیچے لے جا کر کئی ماہ تک زندہ رہ سکتا ہے، جو مستقبل میں دل کے دورے، فالج، دماغی چوٹوں اور دیگر ہنگامی طبی حالات کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

آرکٹک گراؤنڈ اسکوئرل شمالی امریکا، الاسکا اور سائبیریا کے شدید سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ موسمِ سرما سے قبل یہ خوراک ذخیرہ کرنے کے بجائے اپنے جسم میں چربی جمع کرتا ہے اور پھر زیرِ زمین بل میں جا کر تقریباً آٹھ ماہ تک ہائبرنیشن (خوابِ سرما) کی حالت میں چلا جاتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق اس دوران اس کے جسم کا درجہ حرارت انتہائی کم ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ دماغ صفر ڈگری سینٹی گریڈ، پیٹ منفی 2 ڈگری اور بعض اعضاء منفی 2.9 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، جو کسی بھی ممالیہ جانور میں ریکارڈ کیے گئے کم ترین درجات میں سے ہیں، اس دوران اس کی دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار بھی انتہائی سست ہو جاتی ہے، بعض اوقات اسے زندہ قرار دینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی آف الاسکا فیئربینکس کے سائنسدان گزشتہ 50 برس سے اس جانور پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ اس کی طویل ہائبرنیشن اور انتہائی کم درجہ حرارت میں بقا کے رازوں کو سمجھا جا سکے، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انسانی جسم کے میٹابولزم کو محفوظ طریقے سے عارضی طور پر سست کیا جا سکے تو ڈاکٹرز کو ہنگامی حالات میں مریضوں کو بچانے کے لیے زیادہ وقت مل سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ ایڈینوسین نامی قدرتی مالیکیول ہائبرنیشن کے عمل کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی بنیاد پر اس سے مشابہ ایک مرکب استعمال کرکے تجرباتی جانوروں میں ہائبرنیشن جیسی کیفیت پیدا کی گئی، جس کے نتیجے میں ان کا میٹابولزم سست اور جسم کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو گیا۔

یہ تجربہ ایسے جانوروں پر بھی کامیاب رہا جو قدرتی طور پر ہائبرنیشن نہیں کرتے، جس سے انسانوں میں اس کیفیت کے ممکنہ استعمال کی امید پیدا ہوئی ہےتاہم ماہرین کے مطابق اس تحقیق کو انسانوں پر لاگو کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ دماغ میں براہِ راست ادویات کا استعمال اور ممکنہ مضر اثرات اہم رکاوٹیں ہیں۔

مزید تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ آرکٹک گراؤنڈ اسکوائرلز کم آکسیجن کی صورتحال میں اپنے اعضا کو نقصان سے بچانے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے سائنسدان آئیوڈائیڈ پر مبنی ادویات اور دیگر حیاتیاتی طریقوں پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ تحقیق نہ صرف ہنگامی طبی امداد بلکہ اعضا کی پیوندکاری، کینسر کے علاج اور طویل خلائی سفر جیسے شعبوں میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔

اگرچہ انسانوں میں مصنوعی ہائبرنیشن کا تصور ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم سائنسدانوں کے مطابق آرکٹک گراؤنڈ اسکوائرل جیسے ننھے جانور کی حیاتیاتی صلاحیتیں مستقبل کی طب میں بڑے انقلابات کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :عمران خان سے ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کو ارسال