پاکستانی لائیو اسٹاک: عالمی ریڈ میٹ مارکیٹ میں ابھرتا ہوا معاشی ستارہ
تحریر: ڈاکٹر وقار علی گل
Stay tuned with 24 News HD Android App
گزشتہ دو دہائیوں سے محکمہ لائیو اسٹاک میں خدمات انجام دیتے ہوئے میں نے ایک حقیقت بارہا محسوس کی ہے کہ کسی بھی ملک کے زرعی اور مویشی پال شعبے کی سمت صرف مقامی پالیسیاں متعین نہیں کرتیں بلکہ عالمی سیاسی اور معاشی تبدیلیاں بھی اس پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، آج پاکستان کا لائیو اسٹاک سیکٹر بھی ایک ایسے ہی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں درست فیصلے اسے ملکی معیشت کا طاقتور ستون بنا سکتے ہیں۔
برسوں تک پاکستان کی بیف اور مٹن انڈسٹری اپنی حقیقی صلاحیت کے باوجود محدود منڈیوں تک سمٹی رہی۔ اگرچہ پاکستان دنیا میں مویشیوں کی بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، لیکن ہماری برآمدات زیادہ تر خلیجی ممالک تک محدود رہیں۔ اب خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سفارتی صورتحال نے نئی تجارتی راہیں کھول دی ہیں، جن سے پاکستان کے ریڈ میٹ سیکٹر کو غیر معمولی مواقع میسر آسکتے ہیں۔
ساتویں قومی زرعی مردم شماری 2025ء کے مطابق پاکستان میں مویشیوں کی مجموعی تعداد 251.3 ملین تک پہنچ چکی ہے، جن میں 55.86 ملین گائے اور 47.74 ملین بھینسیں شامل ہیں، صرف پنجاب میں 104.2 ملین جانور موجود ہیں، جو اسے نہ صرف ملک کا سب سے بڑا لائیو اسٹاک صوبہ بلکہ دیہی معیشت کا مضبوط ترین ستون بناتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس دنیا کی بڑی ریڈ میٹ معیشت بننے کی بنیادی صلاحیت پہلے سے موجود ہے۔
اصل ضرورت اس سوچ کو بدلنے کی ہے کہ گوشت صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک اعلیٰ معیار کی عالمی برانڈڈ مصنوعات ہے، اگر ہم معیار، حفظانِ صحت، ٹریس ایبلٹی اور جدید پراسیسنگ پر توجہ دیں تو پاکستانی ریڈ میٹ عالمی منڈی میں ممتاز مقام حاصل کر سکتا ہے۔
اس حوالے سے ساہیوال نسل کی گائے پاکستان کا ایک ایسا حیاتیاتی سرمایہ ہے جس کی عالمی سطح پر ابھی پوری قدر نہیں پہچانی گئی۔ جدید فیڈ لاٹ سسٹم، متوازن خوراک، سائلج اور بائی پاس فیٹس کے ذریعے تیار کیے گئے ساہیوال بچھڑے بہتر رفتار سے وزن حاصل کرتے ہیں، گرمی برداشت کرنے، بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت اور معیاری گوشت کی خصوصیات انہیں عالمی پریمیم مارکیٹ کے لیے ایک منفرد انتخاب بناتی ہیں۔
حوصلہ افزا امر یہ ہے کہ پاکستان کی چند جدید گوشت برآمد کنندہ کمپنیاں خاموشی سے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر کے بعد چین کو بیف کی برآمدات میں نمایاں اضافہ، ملائیشیا کے لیے بڑے برآمدی منصوبے اور ترکیہ کی بڑھتی ہوئی طلب اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ عالمی منڈی پاکستانی گوشت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ہم عالمی معیارات پر پوری طرح پورا اتریں۔
آج دنیا میں حلال فوڈ انڈسٹری تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے، بڑھتی ہوئی آبادی، بہتر قوتِ خرید اور حلال سرٹیفکیشن کی اہمیت نے ریڈ میٹ کی طلب میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور افریقہ کی متعدد ریاستیں اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمد کرتی ہیں، پاکستان اگر ٹریس ایبلٹی، ویٹرنری سرٹیفکیشن، کولڈ چین اور بین الاقوامی فوڈ سیفٹی معیارات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنا لے تو وہ عالمی حلال گوشت کی صنعت میں ایک قابل اعتماد سپلائر بن سکتا ہے۔
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت بھی اس وقت اس کے لیے ایک اہم معاشی اثاثہ بن چکی ہے،مغربی سرحد کے ذریعے ایران سمیت خطے کی نئی منڈیوں تک رسائی ہمیں ایسی برتری دیتی ہے جو برازیل اور آسٹریلیا جیسے بڑے برآمد کنندگان کے پاس موجود نہیں۔ پنجاب کے جدید فیڈ لاٹس سے تیار شدہ تازہ اور چلڈ گوشت زمینی راستے سے صرف 36 سے 48 گھنٹوں میں تفتان سرحد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سمندری راستے سے آنے والے منجمد گوشت کو کئی ہفتے درکار ہوتے ہیں، یہی فرق مستقبل میں پاکستانی گوشت کو بہتر قیمت اور مضبوط مارکیٹ دلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں، تفتان بارڈر تک جدید کولڈ چین اور قرنطینہ سہولیات پر مشتمل گرین کوریڈور قائم کیا جائے، پاک۔ایران مشترکہ ویٹرنری کلیئرنس سسٹم متعارف کرایا جائے، لائیو اسٹاک کو باقاعدہ برآمدی صنعت کا درجہ دیا جائے اور برآمدی معیار حاصل کرنے والے فارمرز کو فیڈ، کولڈ چین اور سرٹیفکیشن پر مالی معاونت فراہم کی جائے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت پنجاب کا محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ عالمی معیار کے FMD-Free Zones کے قیام، جدید مویشی منڈیوں کی ترقی اور برآمدی انفراسٹرکچر کی بہتری پر کام کر رہا ہے، اگر یہی اصلاحاتی ماڈل ملک کے دیگر صوبوں تک بھی وسعت اختیار کرے تو پاکستان عالمی ریڈ میٹ مارکیٹ میں کہیں زیادہ مضبوط حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کی برآمدی معیشت کو اب صرف ٹیکسٹائل تک محدود رکھنے کا دور گزر چکا ہے۔ مستقبل کی مضبوط معیشت متنوع برآمدات کی متقاضی ہے، اور لائیو اسٹاک ایسا شعبہ ہے جو بیک وقت زرِ مبادلہ، دیہی خوشحالی، روزگار اور غذائی تحفظ کو تقویت دے سکتا ہے۔
آج ہمارے پاس وسائل بھی ہیں، اعلیٰ نسلیں بھی، وسیع مویشی آبادی بھی اور بدلتا ہوا جغرافیہ بھی، اگر ہم ساہیوال نسل کی عالمی برانڈنگ، جدید فیڈ لاٹ سسٹم، بیماریوں سے پاک زونز، مؤثر کولڈ چین اور بین الاقوامی معیار کی برآمدی پالیسی کو قومی ترجیح بنا لیں تو آنے والے برسوں میں ریڈ میٹ پاکستان کی معیشت کا اگلا ملٹی بلین ڈالر برآمدی شعبہ ثابت ہو سکتا ہے۔
فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے، دنیا کی منڈیاں منتظر ہیں، مواقع ہمارے دروازے پر دستک دے رہے ہیں، ضرورت صرف بروقت فیصلوں، پالیسی کے تسلسل اور قومی عزم کی ہے۔