نوجوان اپنے مستقبل اور زندگی کے اہم فیصلے AIسے کروا رہے ہیں:رائید افضل
بڑوں سے ملی فرسٹریشن کا شکار پڑھے لکھے لوگ جرائم کر رہے ہیں : ماہر تعلیم کی پروگرام ’’مارننگ ود فضا‘‘ میں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) یہ ذہن سے نکال دیں کہ بڑوں سے فیصلہ کروانا تابعداری ہے اور اس میں برکت پڑتی ہے ماہر تعلیم رائید افضل نے مارننگ ود فضا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی دادی اماں کو کیا معلوم کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیا ہے ،مگر نوجوان اے آئی کے دور میں برکت کیلئے ان سے اپنے مستقبل اور زندگی کے اہم فیصلے کرواتے ہیں اور وہ بھی خوب بولتی ہیں ، دوسروں کے مسئلے میں بولنے کا بزرگوں کو شوق ہے ، دوسروں کو رائے دینا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں ، آپ فیصلہ کرکے دعا کروا لیں مگر ان سے فیصلے نہ کروائیں ، انہیں کچھ نہیں معلوم ۔
رائید افضل کا کہنا تھا کہ ہم نے بچے نہیں پراپرٹیز پیدا کی ہیں ، والدین سمجھتے ہیں کہ بچے ہماری پراپرٹی ہیں جو ہم کہیں گے وہ اس پر آنکھیں کان بند کرکے عمل کریں گے، بچے والدین کی ایکسٹنشن ہوتی تو کوئی بات نہیں تھی ، بچہ ایک انسان ہے لیکن اسکا فنگر پرنٹ آپ سے نہیں ملتا ، بچوں پر کنٹرول کیسے رکھا جائے۔
رائید افضل نے کہا کہ پاکستانی دو انتہاوں پر رہتے ہیں ، ایک طبقے نے بچوں کو بے تحاشہ آزادی دے رکھی ہے اور دوسروں نے انہیں اپنے اشاروں پر چلایا ہے ، انہیں فیصلے کا اختیار ہی نہیں ، بچوں کو اختیار دیں مگر محدود ، رائد افضل نے بتایا کہ میری آٹھ کمپنیوں کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ میں نے بارہ کمپنیوں کی ناکامی دیکھی ہے ، اگر ناکامی نہیں ہوگی تو کامیابی کیسے معلوم ہو گی سیکھنے کا عمل کیسے ہو گا ، ہر غلطی نے کچھ سکھایا ہے ، جوانی میں بچے غلط سائیڈ پر چلے جاتے ہیں ، جرائم یا منشیات کی لت میں چلے جاتے ہیں اگر انہیں روکا نہ جائے۔
انہوں نے کہا کہ بچے کے دل میں خوف ہرگز نہ ڈالیں انہیں خود سے سیکھنے دیں بچوں پر نظر رکھیں مگر انہیں سیکھنے دیں ، رائید افضل نے کہا کہ جیلوں میں نوجوانوں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کا عمل جاری ہے ، جیلوں میں زیادہ تر لوگ کم از کم میٹرک کرکے قید ہیں ، جیلوں میں جاہل ان پڑھ گنوار نہیں ہیں ، سائبر کرائم ، یا دیگر جرائم پڑھے لکھے لوگ کر رہے ہیں ، ان کو کو ئی سمت نہیں ملی ان کو فرسٹریشن ملی بڑوں سے ، انکو صرف بڑوں کی تنقید ملی جس کی وجہ سے وہ منفی رحجانات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں رائید افضل نے کہا کہ ہم بچوں پر بلاوجہ کے ایسے مضامین لاد دیتے ہیں جن میں ان کی دلچسپی نہیں ہوتی ، اے آئی کے دور میں انسان میتھ سے آزاد ہو گیا ہے ، جس لیول پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کر سکتی ہے انسان کر ہی نہیں سکتا ، میتھ مائنڈ کو آرگنائز کرتا ہے، میتھ لوجیکل بناتا ہے ، آپ کو چیزوں کو بیلنس کرنا سکھاتا ہے ، ، لوجیکل لوگ اچھی چوائس کرتے ہیں اموشنل یا جذباتی ہوکر نہیں سوچتے نوجوان نسل کو لاجیکل انداز میں سوچنا اور زندگی کے فیصلے کرنا سیکھنا چاہیے ۔