دریائےچناب میں تباہی مچاتا نیا بڑا سیلابی ریلہ تیز رفتاری سے جھنگ کی جانب بڑھنے لگا

تریموں بیراج میں پانی کی سطح 3 لاکھ اکتیس ہزار کیوسک سے بڑھ گئی، شدید سیلابی ریلہ ہیڈ پنجند میں داخل ،ہیڈ سے نکلنے والی تمام نہریں بند

Sep 05, 2025 | 09:30:AM
دریائےچناب میں تباہی مچاتا نیا بڑا سیلابی ریلہ تیز رفتاری سے جھنگ کی جانب بڑھنے لگا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز )دریائےچناب میں تباہی مچاتا نیا بڑا سیلابی ریلہ تیز رفتاری سے جھنگ کی جانب بڑھنے لگا، ریلہ چند گھنٹے میں سب ملیا میٹ کرسکتا۔

  تفصیلات کے مطابق   بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے بعد دریائے ستلج، راوی اور چناب میں شدید طغیانی کے باعث کئی بند ٹوٹ گئے ۔

دریائےچناب میں تباہی مچاتا نیا بڑا سیلابی ریلہ تیز رفتاری سے جھنگ کی جانب بڑھنے لگا، ریلہ چند گھنٹے میں سب ملیا میٹ کرسکتا۔

 تریموں بیراج میں پانی کی سطح تین لاکھ اکتیس ہزار کیوسک سے بڑھ گئی، چنیوٹ میں ساڑھےپانچ لاکھ کیوسک کاریلہ تباہی مچانےلگا، شدید سیلابی ریلہ  ہیڈ پنجند میں داخل ہوگیا،پانی کا بہاؤ3لاکھ10ہزار کیوسک ریکارڈ ہیڈ سے نکلنے والی تمام نہریں بند کر دی گئیں ،ریلہ دودن بعد گڈوبیراج پہنچے گا .

  شیر شاہ روڈ سیلابی پانی میں ڈوب گیا 

 ہیڈ محمد والا فلڈ بند توڑنے سے شیر شاہ روڈ سیلابی پانی میں ڈوب گیا،اوچ شریف کے قریب زمیندارہ بند ٹوٹ گیا،کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی کپاس ،گنا ، تل ، چاول، دیگر فصلیں اور چارہ تباہ ہوگیا۔

 شجاع آباد کینال سے پانی اوور فلو ہونے لگا

ملتان میں قاسم بیلا کے قریب شجاع آباد کینال سے پانی اوور فلو ہونے لگا، سورج میانی کے علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہوگیا،شجاع آباد کینال میں پانی کی مقدار گنجائش سے 3 گنا زیادہ ہوگئی ہے۔

شور کوٹ کے مقام پر   درمیانے درجے کا سیلاب

جھنگ کے علاقے شور کوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب آگیا، سلطان باہو پل سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلا گزرا، در کھانہ کے مقام پر ریلوے پل سے سیلابی پانی ٹکرانے سے شور کوٹ خانیوال ریلوے سیکشن دوسرے روز بھی بند رہا۔

یہ بھی پڑھیں: صبح سویرے زلزلے کےشدیدجھٹکے

پنڈی بھٹیاں میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا، 5 لاکھ 57 ہزار کا ریلا گزر رہا ہے، احمد پور سیال میں موضع سمند وانہ بند میں شگاف پڑ گیا، کئی علاقے زیر آب آگئے، فصلوں کو نقصان پہنچا، لیاقت پور میں دریائے چناب اور دریائے سندھ کے سیلابی ریلوں سے تباہی مچ گئی۔

موضع نور والا کی متعدد بستیاں سیلابی پانی کی نذر ہوگئیں، بڑے رقبے پر فصلیں بھی زیرآب آگئیں، چنیوٹ میں ریسکیو ٹیموں کا ٹھٹھہ ہشمت اور موضع ڈوم میں امدادی آپریشن جاری رہا، 25 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا، اب تک 1312 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔

خانیوال میں بھی سیلاب سے تباہی

خانیوال میں بھی سیلاب سے تباہی مچ گئی، درجنوں دیہات میں پانی داخل ہوگیا، اوچ شریف دریائے ستلج میں طغیانی کے باعث پانی مزید 20 رہائشی بستیوں میں داخل ہوگیا، ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں ڈوب گئیں۔

ریسکیو ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم پانی کی شدت کے باعث کئی مقامات تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔

دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، تریموں بیراج پر پانی کی آمد 3لاکھ 31 ہزار کیوسک ہے۔

عارف والا میں مزید دیہاتوں کو خطرہ

عارف والا کے مقام دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال خطرناک ہونے کا خدشہ ہے، چک یاسین کے میں کئی کئی فٹ سیلابی پانی جمع ہو گیا، چک یاسین کے کا سرکاری سکول سیلابی ریلے کی لپیٹ آ گیا، مزید کئی دیہات سیلابی ریلے کے نشانے پر آ گئے، ہزاروں ایکڑ پر کاشت فصلیں، رابطہ سڑکیں، کئی پہلے ہی دیہات ڈوب چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کے  مودی سے ذاتی  تعلقات کیسے ہیں؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

ادھر ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے، قطب شہانہ کے مقام پر بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہونے پر ساہیوال میں الرٹ جاری کر دیا گیا، قطب شہانہ کے مقام پر 131500 کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے، چیچہ وطنی میں 126400کیوسک بہاؤ ہے۔

 ریلا آج ہیڈ پنجند سے نکلنے کے بعد   گڈو بیراج پہنچے گا 

 محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد 2 لاکھ 27 ہزار 710 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 13 ہزار 740 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، یہ ریلا آج ہیڈ پنجند سے نکلنے کے بعد دو دن میں گڈو بیراج پہنچے گا۔

گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 42 ہزار 153 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 10 ہزار 408 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 31 ہزار 230 اور اخراج 2 لاکھ 75 ہزار 850 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 47 ہزار 186 اور اخراج 2 لاکھ 9 ہزار 431 کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔

دریائے سندھ میں سیلابی صورت حال کے پیش نظر کوٹری بیراج کے مقام پر ریسکیو 1122 کے کیمپ بھی قائم ہو گئے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:’’بھارت کے ڈیمز پر میزائل مارنے چاہئیں‘‘ قومی سیاستدان  نے بڑا بیان داغ دیا

وزیر زراعت سندھ محمد بخش مہر نے گڈو بیراج اور کندھ کوٹ کشمور بند کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور کسی قسم کے خطرے کی بات نہیں تاہم 7 لاکھ کیوسک کا ریلا آنےکی توقع ہے۔

یاد رہے کہ دریائے پنجند پر پنجاب کے دریا یعنی دریائے جہلم، دریائے چناب، دریائے راوی، دریائے بیاس اور دریائے ستلج کے 5 دریاؤں کا سنگم قائم ہوتا ہے۔

جہلم اور راوی چناب میں شامل ہوتے ہیں، بیاس ستلج میں شامل ہوتا ہے اور پھر ستلج اور چناب ضلع بہاولپور سے 10 میل دور شمال میں اوچ شریف کے مقام پر مل کر دریائے پنجند بناتے ہیں۔