لاہورجنرل ہسپتال میں پراسٹیٹ کے جدید علاج ریزیوم (سٹیم) پروسیجر کا کامیاب مظاہرہ
لائیو آپریشن نوجوان ڈاکٹروں اور ماہرین کو براہِ راست دکھایا گیا تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ ہو سکیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)لاہورجنرل ہسپتال میں پراسٹیٹ کے جدید علاج ریزیوم (سٹیم) پروسیجر کا کامیاب مظاہرہ کیاگیا۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف یورولوجیکل سرجنز (PAUS) کی سلور جوبلی بین الاقوامی کانفرنس کے سلسلے میں لاہور جنرل ہسپتال میں ایک خصوصی سیشن کاانعقادکیاگیا، تربیتی ورکشاپ میں جدید طریقہ علاج برائے پروسٹیٹ گلینڈ ریزیوم (Steam) پروسیجر کا عملی مظاہرہ کیا گیا،ریزیوم پروسیجر کا لائیو آپریشن غیر ملکی ماہرین نے کیا جسے براہِ راست نوجوان ڈاکٹروں اور ماہرین کو دکھایا گیا تاکہ وہ اس جدید ٹیکنالوجی کے عملی پہلوؤں سے آگاہ ہو سکیں۔
سربراہ یورالوجی ڈیپارٹمنٹ لاہورجنرل ہسپتال پروفیسر خضر حیات گوندل، ڈاکٹر اظفر علی اور ڈاکٹر رحیم سجاد نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔
پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر فاروق افضل نے اس موقع پرکہاکہ نوجوان ڈاکٹرز کو طبّی میدان میں ہونے والی عالمی پیش رفت سے ہر لمحہ باخبر رہنا چاہیے تاکہ وہ ماڈرن ٹیکنالوجی اور علاج کے جدید طریقوں پر عبور حاصل کر سکیں،غیر ملکی ماہر یورالوجسٹ کا لاہور جنرل ہسپتال میں جدید طریقہ علاج پر مبنی آپریشن کرنا اور اپنے علم و تجربے کو پاکستانی ینگ یورالوجسٹس کے ساتھ شیئر کرنا ادارے کے لیے باعثِ فخر اور ملک کے طبی شعبے کے لیے خوش آئند قدم اور اس بات کا مظہر ہے کہ بین الاقوامی میڈیکل پروفیشنلز لاہور جنرل ہسپتال کی ورکنگ پر بھی اعتماد کرتے ہیں۔
کورس کے مہمان خصوصی پروفیسر ممتاز احمد نے کہا کہ روایتی علاج کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نہ صرف مریضوں کو زیادہ ریلیف فراہم کرتا ہے بلکہ ان کے علاج میں درپیش خطرات اور مدتِ صحت یابی کو بھی کم کرتا ہے، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستانی ڈاکٹرز جلد اس جدید طریقہ علاج میں مکمل مہارت حاصل کر لیں گے، جس سے یورولوجی کے شعبے میں ایک نیا باب کھلے گا۔
اس موقع پر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ یورولوجی لاہور جنرل ہسپتال پروفیسر خضر حیات گوندل نے ریزیوم پروسیجر کے متعلق تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی پروسٹیٹ گلینڈ کے علاج میں نہایت مؤثراور محفوظ طریقہ کار ہے، پاکستان میں اس جدید طریقہ علاج کے بانی ہونے پر انہیں فخر ہے اور اب مقامی سطح پر بھی یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
تقریب میں انگلینڈ سے آئے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ یورولوجسٹ پروفیسر عاصم چوہدری، پروفیسر ثاقب جاویداور پروفیسر فرخ قریشی سمیت پاکستان کے ممتاز ماہرین یورالوجی پروفیسر مزمل طاہراورپروفیسر محمد نذیر کے علاوہ ڈاکٹر کامران زیدی، ڈاکٹر اطہر حمید ، ڈاکٹر خلیل احمد، ڈاکٹر علی عمران بٹ ،ڈاکٹر ذیشان وینس اور دیگر ماہرینِ امراضِ گردہ و مثانہ بھی شریک تھے۔
پرنسپل پروفیسر فاروق افضل نے بیرون ممالک سے آئے ہوئے یورالوجسٹ اور پاکستانی میڈیکل ٹیچرز میں شیلڈز اور شرکاء میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے، شرکاء نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ لاہور جنرل ہسپتال میں عالمی معیار کے علاج اور تربیتی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف نوجوان ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کا باعث بنیں گے بلکہ مریضوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات بھی میسر آئیں گی۔