اے آئی کی نگرانی میں پنجاب بھر میں سمارٹ صفائی پروگرام کا آغاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(راو دلشاد )اے آئی کی نگرانی میں پنجاب بھر میں سمارٹ صفائی پروگرام کا آغاز کیا جائے گا جس میں 40 ہزار گاڑیاں ، 1 لاکھ 76 ہزار ملازمین خدمات انجام دیں گے، سمارٹ صفائی کا آغاز خاص طور پر عیدالاضحیٰ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
پنجاب بھر میں ای کوڑے کی نشاندہی کے لئے اے آئی سے لیس بائیکس متعارف کرائی جائیں گی،غفلت برتنے والوں کو آن سپاٹ جرمانہ کیا جائے گا،اے آئی کیمروں سے لیس بائیکس فیلڈ میں ہوں گی جس سےگھوسٹ ملازمین کا خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا۔
اے آئی ٹیکنالوجی سے لیس ستھرا پنجاب کی موٹر بائکس میں اے آئی بیسڈ خود کار کیمرے سے کوڑے کی نشاندہی کی جائے گی،اے آئی سے لیس ستھرا پنجاب کی موٹر بائیکس لائیو امیج کیپچرنگ اور ریئل ٹائم فیلڈ وزیبیلٹی دیکھا سکے گی ،مسلسل مانیٹرنگ کے لئے اے آئی سے لیس ستھرا پنجاب کی موٹر بائکس پر سسٹم نصب کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے عید الاضحیٰ سے پہلے ہی ستھرا پنجاب کو الرٹ کال دے دی،پنجاب میں عید الاضحی کی نسبت ویسٹ کولیکشن سینٹر کی تعداد بڑھائی جاے گی، پنجاب بھر میں آلائشیں اُٹھانے کے لئے بیگز فراہم کیے جائیں گے، ویسٹ کولیکشن سینٹر کے علاوہ کسی بھی جگہ پر آلائیشیں یا کوڑا پھینکینے پر آن سپاٹ جرمانہ ہوگا ۔
ستھرا پنجاب میں ڈیجیٹل میپنگ اور بیٹ سسٹم لانچ متعارف کرایا جائے گا، پہلی بار اے ائی بیسڈ کمپلینٹ سیل قائم کیا جائے گا ،ستھرا پنجاب نے 70 فیصد ملازمین کی فیزیکل ویری فیکیشن مکمل کر لی ہے جبکہ اس مرحلے کو اگلے ہفتے سو فیصد مکمل کر لیا جائے گا۔
پنجاب میں ستھرا پنجاب کے اہلکاروں و افسران کی اے آئی کی مدد سے فیلڈ مانیٹرنگ بنانے کا حکم بھی دیا گیا ہے، اس حوالے سے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ستھراپنجاب سے متعلق طویل اجلاس ہوا جس میں ستھرا پنجاب سے متعلق تفصیلی بریفنگ لی گئی۔
سسٹم ایمپرومنٹس، اے آئی بیسڈ آپریشنز اور مالی معاملات اور ویسٹ ٹو ویلیو پر رپورٹس پیش کی گئیں، گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر اور حاضری لگا کر رفوچکر ہونے والے ستھرا پنجاب کے ملازمین کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا ہے، دن کے چوبیس گھنٹوں متحرک رکھنے کے لئے ستھرا پنجاب کی ہیلپ لائن 1139 سنٹرلائزڈ کر دی گئی ۔
ڈیپ کلیننگ سے 10365 پوائنٹس کلئیر کر لئے گئے ہیں، ستھرا پنجاب کے مزید 2029 حاضری پوائنٹس قائم کر دیئے گئے، حاضری کے لئے نئی ایپ تیار کی گئی ہے، فیلڈ مانیٹرنگ افسران ہر یونین کونسل میں موبائل ایپ کی ذریعے فیزیکل ویریفیکشن پر مامور ہوں گے، ستھرا پنجاب کو مزید موثر بنانے کے لئے مینجنگ ڈائرکٹرز کی روزانہ کی میٹنگ لازم وملزوم ہوگی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حاضری لگا کر غائب ہونے والوں کی تنخواہ میں سے کٹوتی ہوگی،ستھرا پنجاب کے ڈیلی فیلڈ وزٹ اور سرپرائز وزٹ سے حاضری چیک کی جائے گی ، وزیر اعلی مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کے اہلکاروں کے لیے حاضری اور گاڑیوں کی صفائی لازم قرار دے دی ہے،ستھرا پنجاب کی ڈور ٹو ڈور صفائی مہم کی پرفارمنس انڈکس کو فیزکل ویریفیکشن سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
کانٹینر کلئیرنس تصویری ثبوت کے ساتھ لازمی قرار دی گئی ہے ، ستھرا پنجاب کے اربن اور رورل ایریاز کے لئے یکساں اے آئی بیسڈ اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ستھرا پنجاب کے ویسٹ ٹو ویلیو پراجیکٹ کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ستھرا پنجاب سے زیادہ میرے دل کے قریب کوئی اور منصوبہ نہیں، صفائی نصف ایمان ہے ،صرف ایک جملہ نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کا عکاس ہونا چاہئے، اگر کوئی گھر گندا ہو تو مکینوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایک صاف ستھرا صوبہ اپنے شہریوں کی شعوری سطح اور ذمہ داری کا پتہ دیتا ہے،ستھرا پنجاب محض صفائی کا منصوبہ نہیں یہ ایک سماجی تبدیلی (Social Change) ہے،چیز ریکارڈ پر، شفاف اور KPIs کے مطابق ہونی چاہئے،ستھرا پنجاب صرف ایک پروجیکٹ نہیں یہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک اعتماد (Trust) ہے۔م
مریم نواز نے کہا کہ جو بھی شکایت آئے، اسے فوری حل کیا جائے مانیٹرنگ کا نظام فول پروف ہونا چاہیے،میرا خواب ہے کہ پنجاب کا کوئی علاقہ چاہے شہری ہو یا دیہی صفائی کی سہولیات سے محروم نہ رہے،ہر گاؤں میں وہی معیار ہونا چاہیے جو شہر میں ہے،کل سے پورے پنجاب میں ستھرا پنجاب کی واضح تبدیلی نظر آنی چاہیے، یہ صرف ہدف نہیں بلکہ ہمارا عزم ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ستھرا پنجاب سے شعور دینا چاہتے ہیں کہ صفائی صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے،ستھرا پنجاب منصوبہ دراصل گورننس کا انسانی چہرہ ہے جو ہر گھر، ہر گلی، ہر محلے اور ہر شہری تک پہنچ چکا ہے،آپ جہاں جہاں صفائی کریں گے، وہاں آپ کی اور حکومت کی ساکھ بہتر ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ موٹر ویز اور بڑی سڑکیں صاف ہوں لیکن اگر گلیاں گندی ہوں تو مجموعی تاثر خراب ہو جاتا ہے،آج دیگر صوبوں سے آواز آ رہی ہے کہ پنجاب زیادہ صاف ہے یہ ہماری محنت کا نتیجہ ہے اسے برقرار رکھنا ہے،ستھرا پنجاب ایک بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس کی حفاظت کرنا میرا فرض ہے، میں ستھرا پنجاب منصوبے کو کبھی بھی کرپشن یا سیاسی مداخلت کا شکار نہیں ہونے دوں گی۔
مریم نواز نے کہا کہ ایم ڈیز ستھرا پنجاب کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت صرف افسر نہیں بلکہ ستھرا پنجاب کے فرنٹ لائن لیڈرز ہیں،میرے لئے ایم ڈیز ستھرا پنجاب کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کی مانند ہیں، ایم ڈیز ستھرا پنجاب میری آنکھیں، کان اور ہاتھ ہیں آپ سے بڑھ کر کوئی نگرانی نہیں کر سکتا،میں نے ہمیشہ نوجوانوں پر اعتماد کیا اور موقع دیے ہیں،اسی لیے گریڈ 18 کے افسران کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں کیونکہ ان میں توانائی اور جذبہ موجود ہے،وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو افسر بہترین کارکردگی دکھائے گا، اسے بہتر مواقع اور پوسٹنگ دی جائے گی،اور جو ذمہ داری پوری نہیں کرے گا، اس کے لیے اس سسٹم میں جگہ نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب اب ایک بڑے پیمانے کا منصوبہ بن چکا ہے،جس میں لاکھوں ملازمین، اربوں روپے اور جدید ٹیکنالوجی شامل ہے، جب ہمارے پاس اتنے وسائل، افرادی قوت اور ٹیکنالوجی موجود ہیں تو 100 فیصد نتائج نہ دینا ناقابلِ قبول ہے،ہم جاپان اور سنگاپور جیسے ممالک کو دیکھتے ہیں جہاں صفائی 24/7 برقرار رہتی ہے،دفتر میں بیٹھ کر سب کچھ ٹھیک لگتا ہے ستھرا پنجاب کوئی ڈیسک جاب نہیں، یہ مکمل طور پر فیلڈ ورک ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ 100 گھنٹے دفتر میں گزارنے سے بہتر ہے کہ ایک گھنٹہ فیلڈ میں گزارا جائے،آپ جتنا زیادہ سڑکوں پر ہوں گے،اتنی ہی بہتر نگرانی اور کارکردگی ہوگی،جدید ٹیکنالوجی ڈرو نز، سیف سٹیز سب اپنی جگہ اہم ہیں لیکن فزیکل وزٹ لازمی ہے،صفائی کرنے والے ہمارے ہیرو ہیں،جو لوگ آپ کا گند صاف کرتے ہیں، انہیں عزت دیں، ان کا احترام کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مزدور کی تنخواہ وقت پر ادا ہونی چاہیے کیونکہ مزدور کی اجرت اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے ادا ہونی چاہیے،ستھرا پنجاب والوں کا یونیفارم صاف اور معیاری ہونی چاہیے، گاڑیاں اور ویسٹ کلیکشن پوائنٹس بھی صاف اور منظم ہونے چاہئیں،میں واضح کر دینا چاہتی ہوں ستھرا پنجاب منصوبے میں کرپشن یا سیاسی سفارش کی کوئی گنجائش نہیں،ستھرا پنجاب میں کوئی غیر دستاویزی کام برداشت نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں :راجہ شوکت بھٹی کا پارلیمانی سیکرٹری اسامہ لغاری کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے کا اعلان