بھارت میں E20 پیٹرول پر ہنگامہ، حکومتی تجربہ عوام پر بھاری پڑ گیا

Jul 05, 2026 | 09:22:AM
بھارت میں E20 پیٹرول پر ہنگامہ، حکومتی تجربہ عوام پر بھاری پڑ گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک )بھارت میں 20 فیصد ایتھانول ملا پیٹرول (E20) ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر گیا ہے، جہاں صارفین نے گاڑیوں کی مائلیج میں کمی اور انجن کی کارکردگی متاثر ہونے کی شکایات کے بعد حکومت کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب بھارت کے اٹارنی جنرل آر وینکٹارامنی نے عدالت میں سماعت کے دوران E20 کو "ایک تجربہ" قرار دیا۔ اگرچہ بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ ایتھانول کی فراہمی سے متعلق تھا، نہ کہ حکومتی پالیسی سے، تاہم اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل مزید بڑھ گیا۔

بھارتی حکومت نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے عوام سے غیر مصدقہ دعووں پر یقین نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا کہنا ہے کہ ایتھانول ملا ایندھن دنیا کے مختلف ممالک اور ریسنگ کاروں میں بھی استعمال ہوتا ہے، البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ اس سے مائلیج میں معمولی کمی آ سکتی ہے۔

 یہ بھی پڑھیں:ایران کا امریکا کو دوٹوک پیغام

دوسری جانب متعدد صارفین نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا ہے کہ E20 پیٹرول کے استعمال سے ان کی گاڑیوں کی فیول ایوریج کم ہوئی جبکہ بعض افراد نے انجن اور دیگر پرزہ جات متاثر ہونے کی شکایات بھی سامنے رکھیں۔ ان شکایات کے بعد نئی دہلی میں حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاج کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔

اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی E20 پالیسی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس منصوبے پر مؤثر عوامی مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ اس کے اثرات سے متعلق مکمل اعداد و شمار بھی ابھی سامنے نہیں آئے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ E20 ایندھن کے استعمال سے کاربن کے اخراج میں کمی، خام تیل کی درآمدات پر انحصار میں کمی اور مقامی زرعی شعبے کو فروغ دینے میں مدد ملے گی، تاہم عوامی اعتراضات کے باعث یہ پالیسی اب ایک بڑے سیاسی اور عوامی تنازع کی صورت اختیار کر چکی ہے۔