سکیورٹی اداروں نے کراچی میں دہشتگردی کا بڑامنصوبہ ناکام بنادیا
مسلسل نگرانی کی وجہ سے دہشتگردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا،ایڈیشنل آئی جی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ایڈیشنل آئی جی سندھ ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کہاہے کہ سکیورٹی فورسز کے بروقت ایکشن کے باعث کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا۔
ایڈیشنل آئی جی سندھ ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکراچی میں دہشت گردی کے خطرناک منصوبے کا انکشاف ہونے پرسکیورٹی فورسز نے بلدیہ رئیس گوٹھ میں کارروائی کی اور2ہزار کلو بارودی مواد سے بھرا ٹرک ناکارہ بناکردہشت گردوں کوبھی گرفتارکرلیا,قریبی کمپاؤنڈ سے اضافی دیسی ساختہ بارودی مواد بھی ملا،دھماکا خیز مواد سے بھرے 60ڈرمز،5 گیس سلنڈرز اور بارود تحویل میں لےلیاگیا،بارودی مواد مبینہ طور پر شاپنگ مال کو نشانہ بنانے کے لیے تھا،واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذوالفقار لاڑک نے کہاکہ گذشتہ رات 2مزید دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے، اداروں کی مسلسل نگرانی اور چوکنا رہنے کی وجہ سے دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا، درآمد شدہ دھماکا خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا اور بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔
ذوالفقار لاڑک نے مزیدکہاکہ دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا،انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی،آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا،عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہاکہ کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا،کارروائی کے دوران 30 سے زائد پلاسٹک ڈرمز میں بارودی مواد اور پانچ دھاتی گیس سلنڈرز برآمد کئے گئے،ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ خیز مواد افغانستان سےاندرون بلوچستان اور پھر کراچی لایا گیا،شواہد کے مطابق نیٹ ورک کو ہمسایہ ممالک سے آپریٹ کیا جا رہا تھااورانڈین مفادات کے تحت کام کرنے والے دہشت گرد گروہ اس منصوبے کے پیچھے تھے،بھارتی پراکسیز بی ایل اے اور بی ایل ایف افغانستان میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتی ہیں،دہشت گرد نیٹ ورک کے تانے بانے بشیر زیب، بی ایل اے، فتنۃ الہندوستان اور مجید بریگیڈ سے جوڑنے کے شواہد ہیں،یوریا پر مبنی دھماکہ خیز مواد دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیض حمید کے بھائی نجف حمید کے خلاف جعلسازی کا مقدمہ درج
ایڈیشنل آئی جی سندھ ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے کہادھماکہ خیز مواد کی سپلائی چین توڑنا سیکیورٹی اداروں کی اولین ترجیح ہے،مقامی سہولت کار معمولی مالی مفادات کے بدلے دہشت گردوں کی مدد کرتے ہیں،دہشت گرد رہائشی گھروں کو چھپنے اور بارودی مواد تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں،گھروں کی کرایہ داری کے نظام پر سخت نگرانی اور مؤثر جانچ ناگزیر ہے،یوریا اور دیگر کیمیکلز کے غیر قانونی استعمال پر قوانین کے سخت نفاذ پر زور لازمی ہے،قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،دہشت گرد منصوبے کے تمام ذمہ داروں کا پیچھا کیا جا رہا ہے، مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
انہوں نے کہاکہ گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش، حمدان عرف فرید ولد محمد علی شاملاداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن سے دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا۔