سائینس ہر عمر میں ہو سکتا ہے لیکن بزرگوں میں زیادہ ہوتاہے،پروفیسر خالد منیر چیمہ
موسم بدلتایا فضائی آلودگی بڑھتی ہے تو سائینس انفیکشن بھی زیادہ متحرک ہو جاتا ہے،مارننگ ودفضامیں گفتگو
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)معروف ای این ٹی سپیشلسٹ پروفیسر خالد منیر چیمہ نےمارننگ ود فضا میں گفتگو کرتے ہوئے ناک ،کان اورگلے کی بیماریوں بالعموم اورسائینس انفیکشن کے حوالے سے بالخصوص گفتگوکی۔
معروف ای این ٹی سپیشلسٹ پروفیسر خالد منیر چیمہ نےمارننگ ود فضا میں میزبان فضاعلی کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ قدرت نے ہمارے دماغ کے اندر کچھ کیویٹیز بنائی ہیں، کچھ خلا ہیں جن کے اندر ہوا ہوتی ہے،یہ ہماری ناک کے اردگرد پائی جاتی ہیں، یہ مختلف گروپس ہوتے ہیں جو اینٹیرئیر اور پوسٹیریئر گروپس ہیں اور سائینس ناک کے ذریعے ڈکٹس سے جڑے ہوتے ہیں، اگر کسی بھی وجہ سے سائینس کو ہوا نہ پہنچے تو یہ بلاک ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی علامات آنا شروع ہو جاتی ہیں، اس کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں جیسے شدید انفیکشنز، الرجیز، فضائی آلودگی، بار بار زکام ہونا، ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا ہونا، ناک کی جھلی کی سوزش یہ سب سائینس انفیکشن کا باعث ہو سکتےہیں۔
پروفیسر خالد منیر چیمہ نے کہا کہ زکام ہمیشہ وائرل انفیکشن سے ہوتا ہے اس میں ناک سے پانی بہتا ہے، اس میں ریشہ نہیں ہوتا اور نہ ہی بدبو ہوتی ہے، لیکن جب سائینس انفیکشن ہوتا ہے تو اس میں ناک میں ریشہ بنتا ہے،بدبودار ہو جاتا ہے اور یہ گلے کی طرف بھی جانا شروع ہو جاتا ہے جسے عام زبان میں ’’کیرا‘‘ بھی کہتے ہیں،سائینس یا تو شدید ہوتا ہے یا دائمی ہوتا ہے، اگر یہ دو یا تین ہفتے تک رہے تو اسے شدید کہتے ہیں اور جب اس میں بیکٹیریا شامل ہو جاتا ہے تو یہ دائمی ہو جاتا ہے۔
پروفیسر خالد منیر چیمہ نے کہا کہ سائینس کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے لیکن بزرگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے، جب موسم بدلتا ہے یا فضائی آلودگی بڑھ جاتی ہے تو سائینس انفیکشن زیادہ متحرک ہو جاتا ہے،ہماری آنکھ کے نیچے،گالوں میں اور دماغ کے قریب سائینس پایا جاتا ہے،اگر انفیکشن میں آنکھ شامل ہو جائے تو یہ دماغ کی طرف بھی جا سکتا ہے جس سے پیچیدگیاں بڑھ جاتی ہیں،بار بار انفیکشن ہونا اسے دائمی بنا دیتا ہے،ناک کی جھلی میں سوزش ہو جاتی ہے اور وہ اپنی جگہ سے نیچے گر جاتی ہے جسے پرو لیپس کہا جاتا ہے۔
ای این ٹی سپیشلسٹ پروفیسر خالد منیر چیمہ نے کہا کہ اس حالت میں ادویات سے علاج ممکن نہیں ہوتااس لیے سرجری کی ضرورت پڑتی ہے،پہلے تشخیص کی جاتی ہے کہ کہیں سائینس ناک کی ہڈی بڑھنے کی وجہ سے تو نہیں ہو رہا،پھر اس کا علاج بھی شامل کیا جاتا ہے،یہ سرجری لیزر کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس کی مختلف اقسام ہیں، جب سائینس شروع میں شدید ہوتا ہے تو اس کا ادویات سے علاج کیا جاتا ہے اور سب سے پہلے تشخیص ضروری ہے کہ یہ واقعی سائینس ہے بھی یا نہیں؟
یہ بھی پڑھیں:پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھاپ لینا اور نمک والے پانی سے ناک دھونا مفید ہے لیکن یہ سائینس کا علاج نہیں ہے، یہ صرف ناک کو سکون دیتی ہے اور سوزش کم کرتی ہے، کہا جاتا ہے کہ ناک ہمارے سسٹم کا دروازہ ہے، اگر آکسیجن کے ساتھ دوسرے ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوں گے تو پیچیدگی بڑھے گی،بدلتا ہوا موسم اور فضائی آلودگی ناک پر اثر کرتے ہیں، قدرت نے ناک کے اندر کچھ گوشت کے ٹکرے یعنی ٹربینیٹس بنائے ہیں جو چھوٹے بڑے ہوتے رہتے ہیں،اگر یہ زیادہ بڑے ہوں تو پھر سائینس کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔