ڈالر مہنگا کرنے سے ایکسپورٹس میں اضافہ نہیں ہوا، اصل رکاوٹ پالیسی ساز ہیں:گوہر اعجاز
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم)سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ ڈالر مہنگا کرنے سے ایکسپورٹس میں اضافہ نہیں ہوا، اصل رکاوٹ پالیسی ساز ہیں۔
پاکستان کی برآمدات میں مسلسل جمود اور کمی پر ماہرین معاشیات تو خاموش ہیں مگر سابق وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ڈالر کی قدر بڑھانے سے ایکسپورٹس میں اضافہ نہیں ہوتا، اصل رکاوٹ پالیسی سازوں کی ناقص حکمتِ عملی ہے۔
ڈاکٹر گوہر اعجاز نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان میں 2018 سے 2022 کے درمیان ڈالر کی قیمت 140 روپے سے بڑھ کر 280 روپے تک جا پہنچی، لیکن اس کے باوجود برآمدات 29 ارب ڈالر سے کم ہوکر 27 ارب ڈالر پر آ گئیں، اگر صرف روپے کی قدر گرانے سے برآمدات بڑھنی ہوتیں تو پاکستان کا تجارتی خسارہ ختم ہو جاتا، مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی صنعت سب سے زیادہ خام مال، مشینری اور کیمیکلز درآمد کرتی ہے، ڈالر مہنگا ہونے سے ان کی لاگت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے، یوں برآمدی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مقابلے کے قابل ہی نہیں رہتی، مزید یہ کہ پاکستان میں توانائی کا بحران، مہنگی بجلی و گیس اور بار بار بدلنے والی حکومتی پالیسیاں برآمدات کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ڈاکٹر گوہر اعجاز کے مطابق پاکستان کی ایکسپورٹ زیادہ تر ٹیکسٹائل پر انحصار کرتی ہے، جب کہ آئی ٹی، فارما، انجینئرنگ اور فوڈ پراسیسنگ جیسے شعبے نظر انداز کیے گئے ہیں،اس کے برعکس خطے کے دیگر ممالک نے اپنی برآمدات میں تنوع پیدا کر کے عالمی مارکیٹ میں جگہ بنائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مرغی کا گوشت مزید مہنگا ، فی کلو قیمت کہاں پہنچ گئی؟جانیے
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کے ری فنڈز اور ڈیوٹی ڈرابیک کی رقم مہینوں تک پھنسے رہتی ہے جس سے ان کا سرمایہ جام ہو جاتا ہے اور وہ نئے آرڈرز لینے سے کتراتے ہیں، اس کے علاوہ لاجسٹکس اور کسٹمز کے مسائل وقت پر آرڈرز کی ترسیل میں رکاوٹ بنتے ہیں جس سے پاکستان کا امیج بھی متاثر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر گوہر اعجاز نے تجاویز دی ہے کہ برآمدی صنعت کو خطے کے مطابق سستی اور وافر توانائی فراہم کی جائے،ایکسپورٹ سیکٹر کے لیے طویل مدتی پالیسی وضع کی جائے تاکہ سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہو، آئی ٹی اور دیگر نان ٹیکسٹائل شعبوں کو خصوصی مراعات دے کر برآمدات میں تنوع لایا جائے، سیلز ٹیکس ری فنڈز اور ڈیوٹی ڈرابیک کی فوری ادائیگی یقینی بنائی جائے، کسٹمز اور لاجسٹکس کے مسائل حل کر کے عالمی خریداروں کو بروقت اور معیاری سپلائی دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ تب ہی ممکن ہے جب حقیقی رکاوٹیں دور کی جائیں اور پالیسی ساز صرف روپے کی قدر کم کرنے کے بجائے پیداواری لاگت اور بزنس ماحول بہتر بنانے پر توجہ دیں۔