ستائیسویں آئینی ترمیم کے حق میں چند گزارشات

تحریر: احمد منصور

Nov 04, 2025 | 13:00:PM
ستائیسویں آئینی ترمیم کے حق میں چند گزارشات
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پوسٹ کے ذریعے مجوزہ آئینی ترمیم کے جو موضوعات سامنے رکھے ہیں اس پر حسب توقع سیر حاصل بحث شروع ہو چکی ہے، شاید یہ ہی اس اعلان کا مقصد بھی تھا۔

پاکستان اب اُس موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف “اصلاحات” کا شور نہیں، عملی آئینی جراحی کی ضرورت ہے۔ یہ جراحی کسی سیاسی جماعت کی خواہش نہیں بلکہ ریاست کی بقا، نظمِ حکومت اور قومی یکجہتی کی مجبوری بن چکی ہے۔ یہی پس منظر ہے جس میں ستائیسویں آئینی ترمیم محض ترمیم نہیں بلکہ پاکستان کے نظام کو ری سیٹ کرنے کی سنجیدہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔

اختیارات صوبوں کے، عوام کہاں؟

اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے تو “خودمختار” ہو گئے، مگر نچلی سطح پر عوام خود مختار نہیں ہوئے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A ایک خواب بن کر رہ گیا۔ بلدیاتی ادارے یا تو ختم کر دیے گئے یا انہیں صابن کی طرح رگڑ کر بےاختیار بنا دیا گیا۔ پندرہ سال گزر گئے، مگر عوام کو مقامی حکومتیں مستقل بنیادوں پر نہ مل سکیں۔
اب 27ویں ترمیم وہ خلا بھرنے جا رہی ہے جسے صوبے برسوں سے آئینی ڈھال کے پیچھے چھپ کر ٹالتے آ رہے تھے۔

آئینی عدالت، انصاف کی نئی منزل

جرمنی، ترکی، اٹلی اور بھارت میں آئینی عدالتیں الگ ادارہ ہیں۔ وہاں سپریم کورٹ حکومت نہیں چلاتی، آئین کی تشریح کرتی ہے۔ پاکستان میں سپریم کورٹ کے سامنے 24 لاکھ مقدمات التوا میں ہیں، اور ایک عام شہری کا کیس آٹھ سے دس سال میں جا کر فیصلے کی شکل دیکھتا ہے۔
اس تناظر میں آئینی عدالت کا قیام سپریم کورٹ کے بوجھ میں کم از کم 25 فیصد کمی لا سکتا ہے۔ ججوں کے تبادلے اور تقرریوں کا شفاف طریقہ عدلیہ کو سیاست کے بوجھ سے آزاد کرے گا، وہی بوجھ جو پچھلے برسوں میں فیصلوں سے زیادہ تنازعات پیدا کرتا رہا۔ بدقسمتی سے چھبیسویں آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کی بجائے آئینی بنچ سے نتیجہ نکالنے کی کوشش کی جو بارآور ثابت نہ ہو سکی، اب اس غلطی کو سدھارنا لازمی ہو گیا ہے۔

ایگزیکٹو مجسٹریسی کی واپسی، ضرورتِ وقت

ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے خاتمے کے بعد عدالتوں پر کیسز کا بوجھ تین گنا بڑھا۔ امن و امان، تجاوزات، ذخیرہ اندوزی، سب معاملات عدالتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے۔ نتیجہ: مقدمات، فائلیں اور انتظار۔
اب وقت ہے کہ موقع پر انصاف واپس لایا جائے۔ ایگزیکٹو مجسٹریسی کی بحالی اسی لیے لازمی قدم ہے تاکہ روزمرہ انتظامی نظم دوبارہ بحال ہو۔

آبادی بم، جو ہر سال بڑا ہو رہا ہے

پاکستان کی آبادی 2.55 فیصد سالانہ کی رفتار سے بڑھ رہی ہے، جبکہ بھارت 0.9 اور ایران 1.1 پر جا چکے ہیں۔ اگر یہی رفتار رہی تو 2040 تک 34 کروڑ انسان انہی وسائل پر پل رہے ہوں گے جو آج ناکافی ہیں۔
وفاقی سطح پر آبادی کنٹرول پالیسی کے بغیر صوبے اس بوجھ کو نہ روک سکتے ہیں نہ سنبھال سکتے ہیں۔ یہ محض سماجی نہیں، سیکورٹی چیلنج بھی ہے۔

تعلیم، صوبائی تجربہ ناکام

18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کے پاس گئی، مگر نتیجہ کیا نکلا؟
پنجاب میں اسکول سے باہر 33 فیصد بچے، سندھ میں 23 فیصد، کے پی میں 21 اور بلوچستان میں 36 فیصد۔
یعنی صوبائی خودمختاری کے بعد تعلیمی عدم توازن بڑھا ہے، کم نہیں ہوا۔ اب یکساں قومی نصاب اور وفاقی نگرانی کے بغیر تعلیم مزید ٹکڑوں میں بٹے گی، قوم نہیں بنے گی۔

بنیادی سہولتیں، عمارتیں بن گئیں، سکول نہیں

ملک میں ایک لاکھ 86 ہزار سے زائد سرکاری سکول ہیں، مگر آدھے سے زیادہ میں صاف پانی، بجلی، باتھ روم یا چار دیواری نہیں۔ صوبوں نے بجٹ عمارتوں پر لگا دیا، تعلیم پر نہیں۔
اب وقت ہے کہ وفاق ایک قومی معیارِ تعلیم طے کرے تاکہ تعداد کے ساتھ معیار بھی گنا جا سکے۔

وفاق بمقابلہ صوبے،  مالی توازن خواب بن گیا؟

پچھلے پندرہ سال میں این ایف سی کے تحت صوبوں کو ملنے والی رقوم دس گنا بڑھ گئیں، مگر ان کی اپنی ٹیکس وصولی بمشکل 70 سے 80 فیصد بڑھی۔ یعنی خرچ بڑھا، آمدن نہیں۔
یہی مالیاتی بحران ہے جس میں وفاق دم توڑ رہا ہے۔ اور ہاں، دفاعی بجٹ پر شور مچانے والوں کے لیے ایک تلخ حقیقت: پاکستان اپنے جی ڈی پی کا صرف 1.7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، جبکہ سول اخراجات مجموعی بجٹ کے 52 فیصد تک چلے گئے ہیں۔ اصل علاج وہاں ہے، نشانہ کہیں اور بنایا جا رہا ہے۔

بلوچستان، وسائل نہیں، نیت کا بحران اصل مسئلہ

بلوچستان کا 83 فیصد بجٹ صرف تنخواہوں اور انتظامی اخراجات میں اڑ جاتا ہے۔ ترقیاتی حصہ 17 فیصد سے بھی کم۔ وفاق سے مزید فنڈز مانگنے کا شور ضرور ہے، مگر اپنے ٹیکس اور گورننس ریفارمز پر خاموشی۔ یہی وہ عدم توازن ہے جو 27ویں ترمیم ختم کرنا چاہتی ہے۔

نتیجہ، ترمیم یا نظام کی ری سیٹنگ

ستائیسویں آئینی ترمیم، دراصل آئین میں نئی روح پھونکنے کی کوشش ہے۔
یہ مرکز کے اختیارات بڑھانے کی ضد نہیں بلکہ ریاستی یکجہتی کی ریڑھ سیدھی کرنے کا فارمولا ہے۔
آئین جامد نہیں ہوتا، زندہ ریاستوں کے ساتھ evolve کرتا ہے، اور اب پاکستان کے لیے بھی وہی وقت آ گیا ہے۔

آخر میں عرض ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ٹارگٹ کرنے والے عناصر نے آئینی ترمیم کو محض ان سے جوڑ کر جو بحث شروع کی ہے وہ یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ ایسے عناصر کو شاید سمجھانے کا وقت اب گزر چکا اس لیے انہیں نظر انداز کر کے پاکستان کے لیے ناگزیر ستائیسویں آئینی ترمیم کے مسودے کو بہتر سے بہتر بنا کر پارلیمان آگے بڑھے اور کر گزرے

اور پکی خبر و تجزیہ یہ ہے کہ...
یہ ترمیم اگر بروقت نہ آئی، تو ہم صرف صوبائی حقوق کے نعروں میں گم رہ جائیں گے اور ریاست، آئینی نعش میں تبدیل ہو جائے گی۔