آئندہ بجٹ میں متعدد اشیا پر ٹیکس مراعات ختم کرنے کی تیاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(وقاص عظیم)آئندہ وفاقی بجٹ میں مختلف اشیا پر دی گئی ٹیکس مراعات اور رعایتی سیلز ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت محصولات میں اضافے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور مالیاتی اصلاحات کے تحت کئی شعبوں کے لیے موجود ٹیکس رعایتوں کا ازسرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق درآمدی کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس پر سیلز ٹیکس بڑھانے، پولٹری اور مویشیوں کی خوراک پر ٹیکس شرح میں اضافے جبکہ سولر فوٹو وولٹائیک سیلز پر موجود ٹیکس سہولت واپس لینے کی تجاویز زیر غور ہیں، اس کے علاوہ اسٹیشنری اور بعض بنیادی اشیائے خورونوش پر بھی رعایتی ٹیکس ختم یا کم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس پالیسی میں تبدیلی اور آٹھویں شیڈول کے تحت دی جانے والی ٹیکس مراعات کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر موجود ٹیکس مراعات برقرار رہیں گی یا ختم ہوں گی، اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ میں متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:محسن نقوی اور شرجیل میمن کی ملاقات، وفاق اور سندھ میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت ٹیکس استثنیٰ کم کرنے اور یکساں ٹیکس نظام کی جانب پیش رفت کا حصہ ہیں، مجوزہ تبدیلیوں کے نتیجے میں متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ میں سیلز ٹیکس پالیسی کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں،محصولات میں اضافے کے لیے رعایتی شرحوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے،وفاقی بجٹ مختلف شعبوں کے لیے ٹیکس مراعات کے مستقبل کا تعین کرے گا۔