’’اللہ اللہ کربھیا‘‘:معروف لوک گلوکارالن فقیر کوبچھڑے 25برس بیت گئے

 ان پڑھ تھے لیکن کمال کا حافظہ تھا، جو بات ایک بارسن لیتےو ہ ازبر ہو جاتی تھی

Jul 04, 2025 | 12:38:PM
’’اللہ اللہ کربھیا‘‘:معروف لوک گلوکارالن فقیر کوبچھڑے 25برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)صدارتی ایوارڈ یافتہ معروف لوک گلوکارالن فقیر کواپنے چاہنےوالوں سے بچھڑے 25برس بیت گئے،وہ 4جولائی 2000ء کو اس فانی دنیا سے کوچ کرگئے تھے لیکن ان کی یاد آج بھی لاکھوں دلوں میں زندہ ہے۔
1932ء کو سندھ کے ضلع جامشورو میں پیدا ہونے والےالن فقیر نے صوفیانہ کلام گا کر ملک گیر شہرت حاصل کی،ان کی گائیگی کا انداز اس لیے منفرد تھا کہ وہ گلوکاری کے ساتھ ساتھ اعضاء کی شاعری بھی کرتے تھے ۔
الن فقیر کے والد ڈھولچی تھے جو شادی اور دیگر تقریبات میں ڈھول بجانے کے علاوہ گایابھی کرتے تھے، الن فقیر نے فقیر تخلص کا انتخاب کیااور گھر بار چھوڑ کر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ کے مزار پر سکونت پذیر ہو گئے۔
 الن فقیر بنیادی طور پر ان پڑھ تھے لیکن خدا نے انہیں کمال کا حافظہ عطاکیا تھا، وہ جو ایک بات سن لیتےوہ انہیں ازبر ہو جاتی تھی،انہوں نے شاہ عبدالطیف بھٹائی کا کلام گانا شروع کیا اور 20برس تک اسی دربار پر روحانی فیض حاصل کرتے رہے،ان کی پرسوز آواز ایک مرتبہ ریڈیو حیدر آباد تک پہنچ گئی جس کے بعد وہ ملک گیر شہرت حاصل کر گئے۔

یہ بھی پڑھیں:مہوش حیات ہنی سنگھ کیساتھ کام کر کے مشکل میں پھنس گئیں
الن فقیر نے اگرچہ سندھی زبان میں گلوکاری کی لیکن اردو میں بھی گایا ، معروف پاپ سنگر محمد علی شہکی کے ساتھ مل کربھی گانا گایا جس کے بول تھے ’’ اللہ اللہ کر بھیا ‘‘، اس گانے نے الن فقیر کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:عالم لوہار:شہنشاہِ لوک موسیقی کوبچھڑے46برس بیت گئے
الن فقیر کو صدر جنرل ضیاء الحق نے 1980ء میں صدارتی ایوارڈ سے نوازا تھا ،اس کے علاوہ انہیں شاہ لطیف ایوارڈ،شہباز ایوارڈ اور کندھ کوٹ ایوارڈز سے بھی نوازا گیاتھا۔